کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: نماز پڑھ کر دائیں یا بائیں دونوں طرف پھر بیٹھنا یا لوٹنا درست ہے۔
حدیث نمبر: Q852
وَكَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَيَعِيبُ عَلَى مَنْ يَتَوَخَّى أَوْ مَنْ يَعْمِدُ الِانْفِتَالَ عَنْ يَمِينِهِ
مولانا داود راز
اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ دائیں اور بائیں دونوں طرف مڑتے تھے ۔ اور اگر کوئی دائیں طرف خواہ مخواہ قصد کر کے مڑتا تو اس پر آپ اعتراض کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے سلیمان سے بیان کیا ، ان سے عمارہ بن عمیر نے ، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا ۔