حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ ، فَقَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً فَصَلَّى صَلَاةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا ، قَالَ أَيُّوبُ : كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ ، كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے بیان کیا ، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے ، کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ` میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیوں نہ سکھا دوں ۔ ابوقلابہ نے کہا یہ نماز کا وقت نہیں تھا ( مگر آپ ہمیں سکھانے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ پھر سجدہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے تھوڑی دیر کے لیے سر اٹھایا ۔ انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی ایوب سختیانی نے کہا کہ وہ عمرو بن سلمہ نماز میں ایک ایسی چیز کیا کرتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کرتے میں نے نہیں دیکھا ۔ آپ تیسری یا چوتھی رکعت پر ( سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہونے سے پہلے ) بیٹھتے تھے ۔ ( یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے ) ۔
حدیث نمبر: 819
قَالَ : فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ : لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى أَهْلِيكُمْ صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا ، فِي حِينِ كَذَا صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا ، فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
مولانا داود راز
´( پھر نماز سکھلانے کے بعد مالک بن حویرث نے بیان کیا کہ )` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہرے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( بہتر ہے ) تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا ۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں بڑا ہو وہ نماز پڑھائے ۔
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كَانَ سُجُودُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ وَقُعُودُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عبدالرحیم صاعقہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے حکم عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی ۔
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : " كَانَ أَنَسُ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ` میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں ۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں ۔