کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: عشاء کی پہلی دو رکعات لمبی اور آخری دو رکعات مختصر کرنی چاہئیں۔
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَر لِسَعْدٍ : لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَدَقْتَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے ، یہاں تک کہ نماز میں بھی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو ۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان (صفة الصلوة) / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة