کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ : لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مہران ابن ابی عروبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہایت سختی سے روکا ۔ یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان (صفة الصلوة) / حدیث: 750
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة