کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: امام کو چاہئے کہ قیام ہلکا کرے (مختصر سورتیں پڑھے) اور رکوع اور سجود پورے پورے ادا کرے۔
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسًا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا ، کہا کہ مجھے ابومسعود انصاری نے خبر دی کہ` ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! قسم اللہ کی میں صبح کی نماز میں فلاں کی وجہ سے دیر میں جاتا ہوں ، کیونکہ وہ نماز کو بہت لمبا کر دیتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ ( کبھی بھی ) غضب ناک نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ( عوام کو عبادت سے یا دین سے ) نفرت دلا دیں ، خبردار تم میں لوگوں کو جو شخص بھی نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے ۔ کیونکہ نمازیوں میں کمزور ، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔