کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور کسی کو کام ہو وہ اکیلے نماز پڑھ کر چل دے تو یہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ` معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 700
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ ، فَكَأَنَّ مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : فَتَّانٌ ، فَتَّانٌ ، فَتَّانٌ ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، أَوْ قَالَ : فَاتِنًا ، فَاتِنًا ، فَاتِنًا ، وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ " ، قَالَ عَمْرٌو : لَا أَحْفَظُهُمَا .
مولانا داود راز
´( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ` معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( فرض ) نماز پڑھتے پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ( وہی ) نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ ایک بار عشاء میں انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کی ۔ ( مقتدیوں میں سے ) ایک شخص نماز توڑ کر چل دیا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ اس کو برا کہنے لگے ۔ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ( اس شخص نے جا کر معاذ کی شکایت کی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فرمایا تو بلا میں ڈالنے والا ہے ، بلا میں ڈالنے والا ، بلا میں ڈالنے والا تین بار فرمایا ۔ یا یوں فرمایا کہ تو فسادی ہے ، فسادی ، فسادی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو حکم فرمایا کہ مفصل کے بیچ کی دو سورتیں پڑھا کرے ۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ مجھے یاد نہ رہیں ( کہ کون سی سورتوں کا آپ نے نام لیا ۔ )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 701
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة