کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بارے میں کہ جب امام کسی قوم کے ہاں گیا اور انہیں (ان کی فرمائش پر) نماز پڑھائی (تو یہ جائز ہو گا)۔
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ ، قَالَ : " اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ ، فَقَامَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ، کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے گھر تشریف لانے کی ) اجازت چاہی اور میں نے آپ کو اجازت دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے گھر میں جس جگہ پسند کرو میں نماز پڑھ دوں میں جہاں چاہتا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کیا ۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھ لی ۔ پھر آپ نے جب سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 686
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة