کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب امام کو نماز کے لیے بلایا جائے اور اس کے ہاتھ میں کھانے کی چیز ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذِرَاعًا يَحْتَزُّ مِنْهَا ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے صالح بن کیسان سے بیان کیا ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو جعفر بن عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ ان کے باپ عمرو بن امیہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی ران کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے ۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور چھری ڈال دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 675
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة