کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : "الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے ، انہوں نے ابوالزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں ۔ جب تک ( نماز پڑھنے کے بعد ) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے «اللهم اغفر له ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم ارحمه‏» کہ اے اللہ ! اس کی مغفرت کر ۔ اے اللہ ! اس پر رحم کر ۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے ۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں ، تو اس کا ( یہ سارا وقت ) نماز ہی میں شمار ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 659
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے ۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا ۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا ، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے ، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے ، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا ، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا ۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 660
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : " سُئِلَ أَنَسُ ، هَلِ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ بَعْدَ مَا صَلَّى ، فَقَالَ : صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا " ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے ، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی رات تک دیر کی ۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے ۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 661
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة