کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: یوں کہنا کیسا ہے کہ نماز نے ہمیں چھوڑ دیا؟
حدیث نمبر: Q635
وَكَرِهَ ابْنُ سِيرِينَ أَنْ يَقُولَ فَاتَتْنَا الصَّلاَةُ وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَمْ نُدْرِكْ. وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے اس کو مکروہ جانا ہے کہ کوئی کہے کہ نماز نے ہمیں چھوڑ دیا ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم نماز نہ پا سکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: Q635
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ ، قَالُوا : اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، فما أدركْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سنی ۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا قصہ ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نماز کے لیے جلدی کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو ۔ بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو وقار اور سکون کو ملحوظ رکھو ، نماز کا جو حصہ پاؤ اسے پڑھو اور اور جو رہ جائے اسے ( بعد ) میں پورا کر لو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 635
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة