حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهَالِينَا ، قَالَ : " ارْجِعُوا فَكُونُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَصَلُّوا ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے معلی بن سعد اسد بصریٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے ابوایوب سے بیان کیا ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ، کہا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم ( بنی لیث ) کے چند آدمیوں کے ساتھ حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں بیس راتوں تک قیام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل اور ملنسار تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اپنے گھر پہنچنے کا شوق محسوس کر لیا تو فرمایا کہ اب تم جا سکتے ہو ۔ وہاں جا کر اپنی قوم کو دین سکھاؤ اور ( سفر میں ) نماز پڑھتے رہنا ۔ جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے ۔