کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ نابینا شخص اذان دے سکتا ہے اگر اسے کوئی وقت بتانے والا آدمی موجود ہو۔
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، ثُمَّ قَالَ : وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال تو رات رہے اذان دیتے ہیں ۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو ۔ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ۔ راوی نے کہا کہ وہ نابینا تھے اور اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے کہا نہ جاتا کہ صبح ہو گئی ۔ صبح ہو گئی ۔