کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ اذان بلند آواز سے ہونی چاہیے۔
حدیث نمبر: Q609
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : أَذِّنْ أَذَانًا سَمْحًا وَإِلَّا فَاعْتَزِلْنَا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز خلیفہ نے ( اپنے مؤذن سے ) کہا کہ سیدھی سادھی اذان دیا کر ، ورنہ ہم سے علیحدہ ہو جا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: Q609
حدیث نمبر: 609
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَة الْأَنْصَارِيِّ ، ثُمَّ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ لَهُ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری سے خبر دی ، پھر عبدالرحمٰن مازنی اپنے والد عبداللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ صحابی نے ان سے بیان کیا کہ` میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے ۔ اس لیے جب تم جنگل میں اپنی بکریوں کو لیے ہوئے موجود ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو تم بلند آواز سے اذان دیا کرو ۔ کیونکہ جن و انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو مؤذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گی ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 609
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة