کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس بارے میں کہ سوائے «قد قامت الصلاة» کے اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہے جائیں۔
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : فَذَكَرْتُ لِأَيُّوبَ ، فَقَالَ : إِلَّا الْإِقَامَةَ .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ سے بیان کیا ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ` بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں یہی کلمات ایک ایک دفعہ ۔ اسماعیل نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا مگر لفظ «قد قامت الصلوة» دو ہی دفعہ کہا جائے گا ۔