حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ " ، تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ فُلَيْحٍ ، وَقَال مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ، عَن فُلَيْحٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابوتمیلہ یحییٰ بن واضح نے خبر دی ، انہیں فلیح بن سلیمان نے ، انہیں سعید بن حارث نے ، انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے ۔ اس روایت کی متابعت یونس بن محمد نے فلیح سے کی ، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا لیکن جابر کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العيدين / حدیث: 986
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 397

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
986. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی ﷺ راستہ تبدیل کرتے، یعنی ایک راستے سے جاتے تو واپسی کے وقت دوسرا راستہ اختیار کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن حضرت جابر ؓ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:986]
حدیث حاشیہ: یعنی جو شخص سعید کا شیخ جابر ؓ کو قرار دیتا ہے اس کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے جو ابو ہریرہ ؓ کو سعید کا شیخ کہتا ہے۔
یونس کی اس روایت کو اسماعیل نے وصل کیا ہے۔
راستہ بدل کر آنا جانا بھی شرعی مصالح سے خالی نہیں ہے جس کا مقصد علماء نے یہ سمجھا کہ ہر دو راستوں پر عبادت الٰہی کے لیے نمازی کے قدم پڑیں گے اور دونوں راستوں کی زمینیں عند اللہ اس کے لیے گواہ ہوں گی (واللہ أعلم)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 986 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
986. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی ﷺ راستہ تبدیل کرتے، یعنی ایک راستے سے جاتے تو واپسی کے وقت دوسرا راستہ اختیار کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن حضرت جابر ؓ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:986]
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر ؒ نے راستہ بدلنے کی بیس سے زیادہ مصلحتیں بیان کی ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں: ٭ ہر طرف سے شوکتِ اسلام کا اظہار ہو۔
٭ جہاں جہاں قدم پڑیں قیامت کے دن وہ خطے گواہی دیں۔
٭ دونوں طرف کے رہنے والے لوگوں سے ملاقات اور اظہار ہمدردی ہو۔
٭ راستہ بدلنے میں نیک فال مقصود ہے کیونکہ اسی راستے سے واپس جانا ایسا ہے۔
جیسا کہ پہلے کام کو ادھیڑ رہا ہے۔
٭ راستہ تبدیل کیا تاکہ یہود ومنافقین کی نظر بد سے محفوظ رہیں۔
(فتح الباري: 609/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 986 سے ماخوذ ہے۔