صحيح البخاري
كتاب العيدين— کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَمْلِ السِّلاَحِ فِي الْعِيدِ وَالْحَرَمِ: باب: عید کے دن اور حرم کے اندر ہتھیار باندھنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السُّكَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ ، فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّكَابِ فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِكَ بِمِنًى فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ : لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَنْتَ أَصَبْتَنِي ، قَالَ : وَكَيْفَ ؟ قَالَ : حَمَلْتَ السِّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيهِ ، وَأَدْخَلْتَ السِّلَاحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَكُنِ السِّلَاحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ " .´ہم سے زکریا بن یحییٰ ابوالسکین نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن محاربی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن سوقہ نے سعید بن جبیر سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` میں ( حج کے دن ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب نیزے کی انی آپ کے تلوے میں چبھ گئی جس کی وجہ سے آپ کا پاؤں رکاب سے چپک گیا ۔ تب میں نے اتر کر اسے نکالا ۔ یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا ۔ جب حجاج کو معلوم ہوا جو اس زمانہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بعد حجاج کا امیر تھا تو وہ بیمار پرسی کے لیے آیا ۔ حجاج نے کہا کہ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس نے آپ کو زخمی کیا ہے ۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھ کو نیزہ مارا ہے ۔ حجاج نے پوچھا کہ وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس دن ہتھیار اپنے ساتھ لائے جس دن پہلے کبھی ہتھیار ساتھ نہیں لایا جاتا تھا ( عیدین کے دن ) تم ہتھیار حرم میں لائے حالانکہ حرم میں ہتھیار نہیں لایا جاتا تھا ۔