صحيح البخاري
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ إِذَا نَفَرَ النَّاسُ عَنِ الإِمَامِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ فَصَلاَةُ الإِمَامِ وَمَنْ بَقِيَ جَائِزَةٌ: باب: اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُنُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .´ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زائدہ نے حصین سے بیان کیا ، ان سے سالم بن ابی جعد نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا ۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے ۔ اس وقت سورۃ الجمعہ کی یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ” اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت امام ؒ نے اس واقعہ سے یہ ثابت فرمایا کہ احناف اور شوافع جمعہ کی صحت کے لیے جو خاص قید لگا تے ہیں وہ صحیح نہیں ہے، اتنی تعداد ضرور ہو جسے جماعت کہا جا سکے۔
آنحضرت ﷺ کے ساتھ سے اکثر لوگ چلے گئے پھر بھی آپ نے نمازجمعہ ادا فرمائی۔
یہاں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ صحابہ کی شان خود قرآن میں یوں ہے ﴿رِجَال لَا تُلھِیھِم تِجَارَة الخ﴾ (النور: 37)
یعنی میرے بندے تجارت وغیرہ میں غافل ہو کر میری یاد کبھی نہیں چھوڑدیتے۔
سوا س کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہے بعد میں وہ حضرات اپنے کاموں سے رک گئے اور صحیح معنوں میں اس آیت کے مصداق بن گئے تھے۔
رضي اللہ عنهم وأرضاهم (آمین)
(1)
ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں غلے کی سخت کمی تھی کہ ایک تجارتی قافلہ غلہ لے کر شام سے مدینے آیا۔
اس کی خبر سن کر کچھ لوگ عین خطبے کی حالت میں باہر چلے گئے، اس پر مذکورہ آیتِ جمعہ نازل ہوئی۔
امام بخاری ؒ نے اس واقعے سے یہ ثابت کیا ہے کہ کچھ فقہاء جمعہ کی صحت کے لیے مخصوص تعداد کی شرط لگاتے ہیں وہ صحیح نہیں۔
بس اتنی تعداد ضروری ہے جسے جماعت کہا جا سکے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اکثر لوگ چلے گئے لیکن آپ نے پھر بھی نماز جمعہ ادا فرمائی۔
(2)
واضح رہے کہ لوگ بحالت خطبہ آپ کو چھوڑ کر گئے تھے کیونکہ متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس آیت کریمہ سے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کو ثابت کیا ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے۔
روایات میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
یہاں پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کی شان قرآن کریم نے بایں الفاظ بیان کی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں تجارت وغیرہ اللہ کے ذکر اور نماز کے قیام سے غافل نہیں کرتی۔
(النور37: 24)
اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ آیت کے نزول سے پہلے کا ہے۔
اس کے بعد یہ حضرات اس سے رک گئے، پھر صحیح معنوں میں آیت کا مصداق بن گئے۔
(فتح الباري: 547/2) (3)
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تھے، جن میں ابوبکرؓ اورعمر بھی تھے، نیز ان میں حضرت جابر، حضرت سالم مولی ابن حذیفہ، حضرت بلال، حضرت عبداللہ بن مسعود اور کچھ انصاری لوگ بھی تھے۔
۔
۔
رضی اللہ عنہم۔
۔
۔
بعض روایات میں عشرۂ مبشرہ کے نام ملتے ہیں۔
(فتح الباري: 546/2)
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز میں مصروف تھے کہ شام کے علاقے سے ایک تجارتی قافلہ لے آیا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2058)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان بارہ آدمیوں میں سے تھے جو آپ کا خطبہ سننے میں مصروف رہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3311)
ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی خطبہ سننے والوں میں باقی رہے۔
(صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 1999۔
(863)
2۔
ان آیات میں مسلمانوں پر اظہار ناراضی کیا گیا ہے کہ یہ قافلے والےکوئی تمھارے رازق تو نہیں تھے کہ تم خطبہ چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگ نکلے۔
رزق کے اسباب مہیا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا آئندہ تمھیں ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
3۔
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زندگی بھر یہی معمول رہا چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے پھر بیٹھ جا تے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے جو تمھیں یہ بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا اس نے جھوٹ بولا۔
(صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 1996۔
(862)
لوگ بہت بھوکے اور پریشان تھے۔
شام سے جو غلہ کا قافلہ آیا تو لوگ بے اختیار ہو کر اس کو دیکھنے چل دیئے، صرف بارہ صحابہ یعنی عشرہ مبشرہ اور بلال اور ابن مسعود ؓ آپ ﷺ کے پاس ٹھہرے رہے۔
صحابہ کرام ؓ کچھ معصوم نہ تھے بشر تھے۔
ان سے یہ خطا ہو گئی جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عتاب فرمایا۔
شاید اس وقت تک ان کو یہ معلوم نہ رہاہوگا کہ خطبہ میں سے اٹھ کر جانا منع ہے۔
امام بخاری ؒ اس باب کو اس لیے یہاں لائے کہ بیع اور شراء، تجارت اور سوداگری گو عمدہ اور مباح چیز یں ہیں مگر جب عبادت میں ان کی وجہ سے خلل ہو تو ان کو چھوڑ دینا چاہئے۔
یہ مقصد بھی ہے کہ جس تجارت سے یادالٰہی میں فرق آئے مسلمان کے لیے وہ تجارت بھی مناسب نہیں ہے کیوں کہ مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد یاد الٰہی ہے۔
اس کے علاوہ جملہ مشغولیات عارضی ہیں۔
جن کا محض بقائے حیات کے لیے انجام دینا ضروری ہے ورنہ مقصد وحید صرف یاد الٰہی ہے۔
(1)
دراصل مدنی دور کی ابتدائی زندگی معاشی اعتبار سے بھی مسلمانوں کے لیے سخت پریشان کن تھی۔
مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ کفار مکہ نے بھی اہل مدینہ کی معاشی ناکہ بندی کررکھی تھی۔
اس بنا پر غلہ کم یاب بھی تھا اور گرانی بھی بہت تھی۔
انھی ایام میں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے کہ شام سے غلے اور اناج کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ طیبہ آپہنچا۔
انھوں نے اپنی آمد کی اطلاع طبلے بجا کردی۔
خطبہ سننے والے مسلمان بھی، محض اس خیال سے کہ اگر دیر سے گئے تو سارا غلہ بک جائے گا، خطبہ چھوڑ کر ادھر چلے گئے تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
اس آیت کریمہ میں میٹھی زبان سے عتاب کیا گیا کہ قافلے والے تمھارے رازق تو نہ تھے، رزق کے اسباب مہیا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، لہٰذا تمھیں آئندہ ایسی باتوں سے بچنا چاہیے۔
چونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں شمار ہوتا ہے، اس لیے حدیث میں خطبے کی سماعت کرنے والوں کو نماز پڑھنے والے کہا گیا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ تجارت اگرچہ اچھی چیز ہے کیونکہ اس کا تعلق کسب حلال سے ہے لیکن کبھی یہ مذموم بھی ہوجاتی ہے جب اس سے اہم اور ضروری چیز پر اسے مقدم کیا جائے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ آخر نماز تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتے مگر وہ اس اہم اور ضروری امر کو چھوڑ کر تجارت کی طرف چلے گئے، اس لیے یہ تجارت ان کے لیے عتاب کا سبب بن گئی۔
پوری آیت کا ترجمہ اس طرح ہے: ’’اور جب انھوں نے تجارت یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو ادھر بھاگ گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا۔
کہہ دیجیے!جو اللہ کے پاس ہے وہ اس تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
'‘‘ (الجمعة: 11: 62)
(1)
مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث پہلے گزرچکی ہے۔
(باب: 6 حدیث: 2058)
اسی طرح آیت کریمہ اور حضرت قتادہ کا قول بھی پہلے بیان ہوچکا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے سہو قلم قرار دیا ہے۔
قرائن اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ عنوان اور حدیث مکرر ہے۔
(فتح الباری: 4/380)
والله اعلم.
اور بعض مرسل روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک جمعہ کا خطبہ نماز جمعہ کے بعد ہوتا تھا۔
نیز صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے یہ خیال کیا کہ ہم جلد ہی غلہ کی خریداری سے فارغ ہو کر واپس آ جاتے ہیں تو دونوں کام ہوجائیں گے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف تنبیہ اتری تو آئندہ کے لیے وہ حضرات محتاط ہو گئے اور پھر کبھی یہ واقعہ پیش نہیں آیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ہر کام اور ہر مشغلہ پر نماز کو ترجیح دی۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے، مدینہ کا (تجارتی) قافلہ آ گیا، (یہ سن کر) صحابہ بھی (خطبہ چھوڑ کر) ادھر ہی لپک لیے، صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے، اسی موقع پر آیت «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ” اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے “ (۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3311]
وضاحت:
1؎:
اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ(ﷺ) کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے (الجمعة: 11)