صحيح البخاري
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ مَنْ قَالَ فِي الْخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ أَمَّا بَعْدُ: باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ : أَمَّا بَعْدُ " ، تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے علی بن حسین نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ۔ میں نے سنا کہ کلمہ شہادت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «امابعد» ! شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
926. حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، جب آپ نے تشہد، یعنی خطبہ پڑھا تو میں نے آپ کو "أمابعد" کہتے سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:926]
حدیث حاشیہ: زبیدی کی روایت کو طبرانی نے شامیوں کی سند میں وصل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 926 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
926. حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، جب آپ نے تشہد، یعنی خطبہ پڑھا تو میں نے آپ کو "أمابعد" کہتے سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:926]
حدیث حاشیہ:
جب حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے لعین امت ابو جہل کی بیٹی سے منگنی کا پروگرام بنایا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، حضرت مسور بن مخرمہ ؓ نے اسے بیان کیا ہے۔
اس کی مکمل تفصیل کتاب المناقب میں بیان ہو گی۔
چونکہ اس میں أما بعد کا ذکر تھا، اس لیے امام بخاری ؒ نے صرف اسی قدر بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
جب حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے لعین امت ابو جہل کی بیٹی سے منگنی کا پروگرام بنایا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، حضرت مسور بن مخرمہ ؓ نے اسے بیان کیا ہے۔
اس کی مکمل تفصیل کتاب المناقب میں بیان ہو گی۔
چونکہ اس میں أما بعد کا ذکر تھا، اس لیے امام بخاری ؒ نے صرف اسی قدر بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 926 سے ماخوذ ہے۔