صحيح البخاري
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ لاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے دن جہاں دو آدمی بیٹھے ہوئے ہوں ان کے بیچ میں نہ داخل ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ وَدِيعَةَ ، حَدَّثَنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَتَطَهَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ ، ثُمَّ ادَّهَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِيبٍ ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " .´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن ابی ذئب نے خبر دی ، انہیں سعید مقبری نے ، انہیں ان کے باپ ابوسعید نے ، انہیں عبداللہ بن ودیعہ نے ، انہیں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب پاکی حاصل کی اور تیل یا خوشبو استعمال کی ، پھر جمعہ کے لیے چلا اور دو آدمیوں کے بیچ میں نہ گھسا اور جتنی اس کی قسمت میں تھی ، نماز پڑھی ، پھر جب امام باہر آیا اور خطبہ شروع کیا تو خاموش ہو گیا ، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کسی کی گردن پھلانگ کر آگے نہ بڑھے کیونکہ یہ شرعا ممنوع اور معیوب ہے۔
اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ شریعت اسلامی میں کسی کو ایذا پہنچانا خواہ وہ ایذا بنام عبادت نمازہی کیوں نہ ہو، وہ عند اللہ گناہ ہے۔
اسی مضمون کی اگلی حدیث میں مزید تفصیل آرہی ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ خطبۂ جمعہ کے آداب بیان کر رہے ہیں کہ مسجد میں آ کر دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کرے۔
اس کے دو معنی ہیں: ٭ دو آدمیوں کے درمیان بیٹھ جانا۔
٭ دو آدمیوں کے درمیان فساد ڈال دینا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے ایک تیسرے معنی بیان کیے ہیں کہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ جائے۔
وہ دو آدمی خواہ بھائی ہوں یا دوست کیونکہ اس طرح ان کے درمیان وحشت اور گھبراہٹ واقع ہو گی۔
یہ انداز اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ گردنیں پھلانگنے کی سنگینی کے متعلق متعدد احادیث ہیں لیکن وہ استنادی ضعف سے خالی نہیں۔
اس بارے میں وارد چند قوی روایات درج ذیل ہیں۔
٭ دوران خطبہ میں ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیٹھ جا تو دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1118)
٭ ’’جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگا، اس کے لیے ظہر ہو گی (جمعے کے ثواب سے محروم ہو گا)
۔
‘‘ (سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 347)
زین بن منیر فرماتے ہیں کہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں، یعنی لوگوں کے سروں اور کندھوں تک اپنے پاؤں اٹھانا یہ انتہائی بدتمیزی کی بات ہے۔
بعض اوقات دوسروں کے کپڑے وغیرہ بھی خراب ہو سکتے ہیں جبکہ اس کے پاؤں پر کوئی چیز لگی ہو۔
(فتح الباري: 505/2) (3)
اس حکم سے مندرجہ ذیل صورتیں مستثنیٰ ہیں: ٭ اگر منبر تک پہنچنے کے لیے خطیب کو راستہ نہ ملے تو اس کے لیے یہ عمل غیر مکروہ ہے کیونکہ منبر تک پہنچنا اس کی ضرورت ہے۔
٭ آگے صف میں جگہ موجود ہو لیکن وہاں تک پہنچنا اس کے بغیر ناممکن ہو، اب اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر اگلی صفوں میں موجود خالی جگہ پر کی جائے۔
(المغني لابن قدامة: 231/3) (4)
ان امور کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس عمل سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے جو شرعاً حرام ہے، نیز جمعہ میں اجتماع کی شان ہے، تفریق کا عمل بے محل اور خلاف مقصود ہے۔
واللہ أعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعے کے دن بالوں کی پراگندگی دور کر کے تیل وغیرہ استعمال کرنا چاہیے، نیز خوشبو وغیرہ بھی لگانی چاہیے۔
ایک روایت میں ہے کہ خوشبو ضرور استعمال کرنی چاہیے، خواہ بیوی ہی کی کیوں نہ ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ اچھا لباس زیب تن کرنا چاہیے۔
جمعہ کے لیے صفائی و طہارت کا اہتمام کرنے سے اس کے سابقہ جمعہ تک کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
ایک روایت میں مزید تین دن کا بھی ذکر ہے لیکن صغیرہ گناہوں کی معافی کے لیے ضروری ہے کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے جیسا کہ سنن ابن ماجہ کی روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
اگر کبیرہ گناہ نہیں ہوں گے تو امید ہے کہ صغیرہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔
الغرض گناہوں کی معافی کے لیے مندرجہ ذیل امور کی بجا آوری ضروری ہے: ٭ غسل کرنا ٭ بالوں میں تیل لگانا ٭ خوشبو استعمال کرنا ٭ اچھا لباس زیب تن کرنا ٭ سکون و وقار کے ساتھ راستہ طے کرنا ٭ مسجد میں پہنچ کر لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگنا ٭ دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسنا ٭ حسب استطاعت نفل پڑھنا ٭ خاموش بیٹھ کر خطبہ سننا ٭ لغو بات سے اجتناب کرنا۔
(فتح الباري: 479/2)
واللہ أعلم۔
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں۔" [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1404]
➋ مندرجہ بالا فضیلت ان تمام کاموں کی بنا پر ہے جن کا حدیث میں ذکر ہے۔ چونکہ ان میں خاموش رہنا بھی داخل ہے، لہٰذا فضیلت کی نسبت اس کی طرف بھی کی جا سکتی ہے۔