صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ يَسْتَقْبِلُ الإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ: باب: امام جب سلام پھیر چکے تو لوگوں کی طرف منہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : "هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، انہوں نے امام مالک سے بیان کیا ، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا ، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے ۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ . . .»
”. . . (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن . . .“ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 846]
«إِثْرِ سَمَاءٍ» سے مراد بارش ہے۔
«بِنَوْءِ كَذَا» فلاں ستارے کی وجہ سے۔
فہم الحديث:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کہے فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اور یہ عقیدہ رکھے کہ ستارہ بذات خود بارش نازل کر سکتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہو جاتا ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔ البتہ اگر کوئی یہ بات کہے مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اصل میں بارش نازل کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے اور ستارے محض علامات و نشانی ہیں تو پھر وہ کافرنہیں ہوتا لیکن یہ بھی مکروہ ہے، کیونکہ یہ کلمہ کفر و غیر کفر کے درمیان متردد ہے۔ [منة المنعم فى شرح مسلم 93/1]
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درحقیقت ستارے بارش نہیں لا سکتے بلکہ وہ تو ہوائیں بھی نہیں چلا سکتے۔ [شرح مسلم للنوي 136/2]
پانی برسانا اللہ کا کام ہے ستارے کیا کر سکتے ہیں۔
(1)
مختلف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فراغت کے بعد دائیں طرف، کبھی بائیں طرف اور کبھی بالکل مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے، یعنی تینوں حالتیں رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے پر محمول ہیں۔
بعض حضرات کی رائے ہے کہ دائیں، بائیں طرف پھرنے کی روایات گھر جانے یا کوئی اور کام کرنے پر محمول ہیں اور لوگوں کی طرف منہ کرنے کی روایت بیٹھنے پر محمول ہے۔
اس اختلاف کی وجہ سے محدثین نے انصراف و استقبال وغیرہ کے متعلق مستقل عنوان قائم کیے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ موقف صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر دائیں بائیں جانب جانے کی بات ہے تو جدھر ضرورت ہو گی ادھر چلا جائے گا اس میں دائیں یا بائیں پھرنے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی مقصود معلوم ہوتا ہے کہ امام کا مقتدیوں کی طرف منہ کرنا، اس کے تین انداز ہیں: دائیں یا بائیں یا بالکل مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا۔
اگر تو لوگوں کو تعلیم دینا یا وعظ کرنا مقصود ہوتا تو لوگوں کی طرف منہ کر کے خطاب کرتے، بصورت دیگر دائیں یا بائیں منہ کر کے اذکار وغیرہ میں مصروف رہتے۔
واللہ أعلم۔
(2)
ستاروں کی تاثیر سعادت و نحوست کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں ہے۔
ہمارے ہاں عام طور پر مصیبت کے وقت کہا جاتا ہے کہ میرا ستارہ گردش میں ہے۔
ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
اسی طرح ان کی ذاتی تاثیر کا عقیدہ رکھنا بھی ایمان کے منافی ہے، البتہ تحت الاسباب ان کے طبعی اثرات ضرور ہیں، مثلا: موسموں میں تبدیلی، گرمی و سردی کا ہونا، سمندر میں اتار چڑھاؤ کا آنا، جسے جوار بھاٹا یا مدوجزر کہا جاتا ہے۔
بہرحال اشیاء میں طبعی آثار و خواص تو ہیں لیکن ان کی تاثیر اذنِ الٰہی پر موقوف ہے جیسا کہ آگ کی تاثیر جلانا ہے لیکن اللہ کا اذن نہ ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نہ جلا سکی بلکہ ان کے لیے جنت و گلزار بن گئی، اس لیے کہنے والے کی نیت کو دیکھا جائے گا اگر وہ ستاروں کے متعلق ذاتی طور پر بارش برسانے کا عقیدہ رکھتا ہے تو بلاشبہ وہ دین اسلام سے خارج ہے اور اگر ان کی تاثیر بطور عادت اور اذن الٰہی پر موقوف مانتا ہے تو کافر نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم۔
1۔
حدیث میں مذکورہ واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا تھا،اس لیے امام بخاری ؓ نے اسے بیان کیا ہے۔
2۔
دورجاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ کچھ ستارے موثر حقیقی ہیں اور ان کا طلوع وغروب بارش کے آنے اورموسم میں تبدیلی کا باعث ہے، حالانکہ مؤثر حقیقی ذات باری تعالیٰ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو مؤثر حقیقی ماننے کے بجائے ستاروں سے اپنی عقیدت قائم کیے ہوئے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ فرمائی اور اسے کفر قراردیا ہے۔
3۔
درحقیقت ہرچیز کا محرک اللہ تعالیٰ ہے حتی کہ کواکب ونجوم کامحرم بھی وہی ہے، اس لیے ہراعتبار سے ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے اگرچہ کچھ چیزوں کو بارش آنے کا سبب قراردیا ہے جیساکہ آگ کوجلانے کا سبب بنایا ہے، اس بنا پر اگر کوئی کہتاہے کہ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے، گھنے بادل چھائے ہیں، آج بارش ہوگی تو یہ کفر نہیں کیونکہ یہ بارش کے عام اسباب ہیں لیکن موثر حقیقی نہیں ہاں، اگران اسباب کو مؤثر حقیقی کامقام دیا جائے تو ایسا عقیدہ یقیناً کفر ہے، جس پر رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی ہے۔
دوسری حدیث میں تفصیل ہے کہ بارش ہونے پر جو لوگ بارش کو اللہ کی طرف سے جانتے ہیں وہ مومن ہو جاتےہیں اور جو ستارون کی تاثیر سے بارش کاعقیدہ رکھتے ہیں وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنےوالے ہو جاتے ہیں۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول کو سبحانہ وتعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے متکلم ہونے کی واضح دلیل ہے، نیز اس کا کلام غیر مخلوق ہے۔
2۔
دوسری حدیث میں تفصیل ہے کہ بارش ہونے پر جو لوگ بارش کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں وہ مومن بن جاتےہیں اور جوستاروں کی تاثیر سے بارش آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہو جاتے ہی اورستاروں پر ایمان لانے والے بن جاتے ہیں۔
(1)
دور جاہلیت میں لوگ غیر اللہ کی طرف قدرتی کاموں کی نسبت کرتے تھے، بالخصوص بارش کے متعلق ان کا یہ عقیدہ تھا کہ کچھ مخصوص ستاروں کی وجہ سے بارش برستی ہے اور یہی ستارے ان کے رزق کا باعث ہیں۔
اس عقیدے میں صراحت کے ساتھ الوہیت باری تعالیٰ کی تکذیب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی طرف اس بارش کی نسبت سے منع کر دیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا حکم دیا۔
اس بنا پر ستاروں کو بارش میں مؤثر حقیقی ماننا کفر ہے۔
اگر انہیں محض علامات ٹھہرایا جائے۔
جیسا کہ ٹھنڈی ہوا یا بادلوں کو علامت قرار دیا جاتا ہے تو اسے کفر سے تعبیر کرنا صحیح نہیں۔
حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے متعلقہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ فلاں پخھتر (چاند کی منزل)
اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3296) (2)
واضح رہے کہ اس موقع پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ملعون نے کہا تھا کہ شعریٰ ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت اس کی تردید کو مناسب خیال کیا۔
(فتح الباري: 678/2)
جاہلیت کے لوگوں کا اعتقاد تھا کہ ستارے ذاتی طور پر مؤثر ہیں، اس لیے وہ ذاتی طور پر بارش برسانے کا سبب وباعث اور فاعل ہیں، مؤثر حقیقی اور بارش برسانے والا اللہ تعالیٰ کو نہیں سمجھتے تھے، تو اب بھی جس انسان کا اعتقاد یہ ہو وہ کافر ہوگا۔
لیکن اگر کوئی انسان مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کو سمجھتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بارش برسانا اور روکنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اگر اس کا فضل و کرم ہوگا تو وہ باران رحمت برسائے گا، وگرنہ بارش نہیں ہوگی لیکن بعض ستاروں کا طلوع وغروب بارش برسنے کی علامت او رنشانی ہے۔
یا جس طرح اس نے آگ میں جلانے، پانی میں سیراب کرنے کی تاثیر رکھی ہے، کسی ستارے میں بھی کوئی تاثیر رکھی ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا، لیکن مؤثر حقیقی اور جس کے فضل ورحمت کے نتیجے میں بارش ہوئی، اس کی طرف نسبت نہ کرنے اور ظاہری علامت کی طرف منسوب کرنے کی بنا پر ناشکری اورناسپاسی کا مرتکب ہوگا اور اس کا قول کافروں کے قول کے مشابہ ہوگا۔
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ” کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ “ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3906]
1) ستاروں وغیرہ کو زمین یا مخلوق میں بذاتہ موثر سمجھنا شرک ہے۔
2) ہر قسم کے واقعات و حوادث صرف اور صرف اللہ عزوجل کی مشیت اور ارادہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔
3) داعی حق مرشد اور استاد کو چاہیے کہ عوام کو واقعاتِ عالم میں تدبر کا درس دیا کرے اور اس سے توحید کا اثبات کرےاور شرک و طواغیت کی تردید کیا کرے۔
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: ” کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1526]
«. . . 274- وعن صالح بن كيسان عن عبيد الله بن عبد الله عن زيد بن خالد الجهني أنه قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية فى إثر سماء كانت من الليل، فلما انصرف أقبل على الناس فقال: ”هل تدرون ماذا قال ربكم؟“ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ”أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر، فأما من قال: مطرنا بفضل الله ورحمته، فذلك مؤمن بي كافر بالكوكب، وأما من قال: مطرنا بنوء كذا وكذا، فذلك كافر بي مؤمن بالكوكب“ . . . .»
”. . . سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر رات کی بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تمہیں پتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ فرماتا ہے:) میرے بندوں میں سے کچھ بندوں نے صبح اس حال میں کی ہے کہ ان میں سے کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر۔ جو شخص کہتا ہے کہ اللہ کے فضل اور رحمت کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو یہ شخص مجھ پر ایمان لانے والا (مومن) ہے اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے۔ اور جو کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو یہ شخص میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 3]
تفقه:
➊ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنا اور درس دینا مسنون ہے۔
➋ یہ عقیدہ رکھنا کہ فلاں نفع یا نقصان کی وجہ فلاں ستارے کا طلوع یا غروب ہونا ہے، کفر ہے۔
➌ بعض نجومی ستاروں کا نام لے کر لوگوں کی قسمت کا حال بتاتے رہتے ہیں، یہ سب فراڈ اور باطل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم: 121/2227]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أتی عرّافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلاۃ أربعین لیلةً۔» جو شخص کسی نجومی کے پاس جائے پھر اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو اس کی چالیس رات (دن) کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم: 2230، دارالسلام: 5821]
جو شخص کسی کاہن کے پاس جاکر اس کی تصدیق کرتا ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ (دین) کا انکار کرتا ہے۔ [ديكهئے سنن ابن ماجه: 639 وسنده حسن وصححه ابن الجارود: 107]
➍ مخلوقات کی زندگی موت اور نفع نقصان میں ستاروں اور اجرام فلکیہ کا کوئی اثر نہیں ہے۔
➎ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔
➏ موقع کی مناسبت سے درس دینا بہت مفید ہے کیونکہ یہ زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ بارش برسنے میں ستارے کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے بارش ہوتی ہے تو یہ شرک ہے کیونکہ بارش برسانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اگر وہ ستاروں کے طلوع ہونے کو علامت خیال کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں، یہ علامت بھی چونکہ حتمی نہیں اس لیے یہ انداز مناسب نہیں۔ اس سے بچ جانا ہی اصل ہے۔
محکمہ موسمیات والے ہوا کے دباؤ اور نمی وغیرہ سے اندازہ لگا کر پیش گوئی کرتے ہیں اور وہ بھی امکان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ایک الگ صورت ہے۔ ستاروں پر ان کا اعتماد نہیں ہوتا۔ لیکن اس صورت میں بھی انداز تکلم جاہلیت والا نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی یعنی لفظی قباحت سے اجتناب کرنا چاہیے۔