حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ ہمیں معمر بن راشد نے زہری سے خبر دی ، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے انہیں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ نے فرمایا کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان (صفة الصلوة) / حدیث: 838
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
838. حضرت عتبان بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیر دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:838]
حدیث حاشیہ: امام بخاری ؒ کا مقصد باب سے یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہ کرنی چاہیے بلکہ امام کے ساتھ ہی وہ بھی سلام پھیر دیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 838 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
838. حضرت عتبان بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیر دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:838]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان حدیث بالا سے ماخوذ ہے۔
اس میں کئی ایک احتمال ہیں: یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ امام کی ابتدا کے بعد مقتدی اپنے سلام کا آغاز کرے، یعنی مقتدی اپنے امام کے اختتامِ سلام سے پہلے پہلے سلام کا آغاز کر دے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب امام اپنے سلام کو پورا کرے تو اس کے بعد مقتدی اس کا آغاز کرے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس کے متعلق ایک مجتہد کو غور فکر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
(فتح الباري: 417/2)
ہمارے نزدیک امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے بلکہ امام کی متابعت کرتے ہوئے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 838 سے ماخوذ ہے۔