صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ التَّسْلِيمِ: باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَيْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب زہری نے ہند بنت حارث سے حدیث بیان کی کہ ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( نماز سے ) سلام پھیرتے تو سلام کے ختم ہوتے ہی عورتیں کھڑی ہو جاتیں ( باہر آنے کے لیے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں جلدی چلی جائیں اور مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تعارض ادلہ اور قوتِ اختلاف کی بنا پر امام بخاری ؒ نے اختتام نماز کے موقع پر سلام کے متعلق فیصلہ نہیں کیا کہ یہ واجب ہے یا سنت۔
ممکن ہے کہ مذکورہ حدیث کے ان الفاظ سے وجوب ثابت کیا جائے کہ ’’جب آپ سلام پھیرتے تھے‘‘ کیونکہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ کا پتہ چلتا ہے۔
اور آپ نے فرمایا ہے: ’’اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
‘‘ اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے کہ نماز کو صرف سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 417/2) (2)
ہمارے نزدیک نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ حضرت علی ؓ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نماز کو صرف سلام ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 618)
حدیث کے الفاظ تحليلها میں اضافت حصر کا فائدہ دیتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ لا تحليل لها غيره، یعنی سلام کے علاوہ کسی چیز سے نماز کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسی پر مداومت اختیار فرمائی۔
حدیث میں ہے کہ آپ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1110(498)
ان احادیث کے پیش نظر ان حضرات کا موقف محل نظر ہے جو کہتے ہیں کہ نمازی اپنے کسی بھی فعل کے ذریعے سے نماز سے نکل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں یہ حضرات ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھ جائے اور سلام پھیرنے سے قبل بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز پوری ہو گی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 617)
اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد افریقی ہے جس کے متعلق علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں کہ حفاظ کے فیصلے کے مطابق یہ راوی ضعیف ہے۔
(المجموع للنووي: 462/3) (3)
اس حدیث میں سلام کی تعداد کا بھی ذکر نہیں ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ سلام دو طرف، یعنی دائیں اور بائیں پھیرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 417/2)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دائیں اور بائیں جانب اسی طرح سلام کہتے تھے: (السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله) (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 996)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔
(سنن الدارقطني: 356/1)
حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو کہتے "السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته" اور بائیں طرف پھیرتے تو کہتے "السلام علیکم ورحمة اللہ" یعنی صرف دائیں طرف والے سلام میں "وبرکاته" کا اضافہ کرتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 997) (4)
تین سلام کے متعلق کوئی قابل اعتبار حدیث مروی نہیں ہے۔
(1)
بنیادی طور پر اس حدیث کا تعلق عنوان سابق سے ہے کہ مستورات مسجد میں نماز کے لیے آ سکتی ہیں۔
(2)
اس حدیث سے ایک نیا مسئلہ معلوم ہوا کہ ہنگامی حالات کے پیش نظر لوگوں کو چاہیے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد اپنے امام کے اٹھنے کا انتظار کریں۔
جب وہ اٹھے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں۔
امام بخاری ؒ نے اس پر متنبہ کرنے کے لیے ایک عنوان قائم کر دیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز سے فراغت کے بعد کچھ دیر کے لیے اپنے مصلی پر ٹھہر سکتا ہے۔
عہد نبوی میں سنت یہی تھی کہ مرد حضرات اتنی دیر تک ٹھہرے رہتے کہ عورتیں مسجد سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں تاکہ مردوں کا عورتوں سے اختلاط نہ ہو۔
اس روایت سے رسول اللہ ﷺ کا کم از کم اپنے مصلے پر ٹھہرنے کا پتہ چلتا ہے۔
(فتح الباري: 434/2)
واللہ أعلم۔
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اگر عورتیں مردوں کے آگے ہوتیں تو مردوں سے پہلے پہلے جانے کی یہی صورت ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی گردنوں کو پھلانگتی ہوئی مسجد سے نکلتیں، حالانکہ اس کی ممانعت ہے، اس لیے لازمی طور پر ان کی صفیں پیچھے ہوتی تھیں تاکہ اس حکم امتناعی کا ارتکاب نہ ہو۔
(فتح الباري: 453/2)
علامہ عینی ؒ نے لکھا ہے کہ عنوان بالا سے مقصود یہ ہے کہ عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے ہوں کیونکہ انہیں ستر کی ضرورت ہے اور مردوں کے پیچھے رہنے ہی میں ان کے لیے زیادہ ستر ممکن ہے۔
(عمدة القاري: 651/4)
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1040]
اسلامی معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بغیر پردے کے بے ہنگم ازدحام اور میل جول قطعاً پسندیدہ نہیں ہے۔ اور مسلمان حضرات و خواتین کو چاہیے کہ شبہے اور تہمت کے مواقع سے ہمیشہ دور رہیں اور اختلاط سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1334]
➋ امام کو مقتدیوں کے احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ان اسباب سے بھی بچنا چاہیے جو ممنوعات تک پہنچانے والے ہوں۔
➍ تہمت والے مقامات سے بچنا چاہیے۔
➎ عورتیں مسجد میں نماز باجماعت کے ساتھ شامل ہو سکتی ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 932]
فوائد و مسائل:
(1)
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہونامسنون ہے۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
دیکھئے: (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب ماجاء فی خروج النساء إلی المسجد، حدیث: 567)
(2)
سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کے جلدی اٹھ جانے میں یہ حکمت ہے۔
کہ مردوں سے اختلاط نہ ہو۔
عورتوں کی صفیں بھی اسی لیے پیچھے ہوتی ہیں۔
کہ وہ جلدی مسجد سے نکل جایئں۔
آجکل عورتیں جمعہ کی نماز کےلئے مسجد میں اور عیدین کی نماز کے لئے عید گاہ میں جاتی ہیں۔
ان کی جگہیں اور دروازے اگرچہ مردوں سے الگ ہوتے ہیں۔
لیکن باہر نکل کر گزرگاہوں میں مردوں سے اختلاط ہوجاتا ہے۔
جس سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا ظاہر بات ہے کہ یہ بات شرعاً نا مناسب ہے۔