مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ فَفَعَلْتُهُ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ : " إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے خبر دی کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ ( تشہد میں ) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی ( میری ) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ ( کمزوری کی وجہ سے ) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان (صفة الصلوة) / حدیث: 827
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
827. حضرت عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا وہ نماز میں چار زانو بیٹھتے تھے۔ میں چونکہ نو عمر تھا، اس لیے میں نے بھی ایسا کیا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بایاں پاؤں پھیلا دو۔ میں نے کہا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا؛ میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:827]
حدیث حاشیہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آخرمیں کمزوری کی وجہ سے تشہد میں چار زانو بیٹھتے تھے یہ محض عذر کی وجہ سے تھا ورنہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا رہے اور بائیں کو پھیلا کر اس پر بیٹھا جائے اسے تورک کہتے ہیں عورتوں کے لیے بھی یہی مسنون ہے باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 827 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
827. حضرت عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا وہ نماز میں چار زانو بیٹھتے تھے۔ میں چونکہ نو عمر تھا، اس لیے میں نے بھی ایسا کیا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بایاں پاؤں پھیلا دو۔ میں نے کہا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا؛ میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:827]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے تھے یا تورک کرتے تھے لیکن امام مالک کی بیان کردہ روایت میں وضاحت ہے کہ بایاں پاؤں پھیلانے کے بعد اس پر بیٹھتے نہیں تھے بلکہ اپنے کولہے پر بیٹھتے تھے۔
اس مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں بیان کردہ طریقہ دوسرے تشہد سے متعلق ہے جیسا کہ مؤطا ہی کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ آخری تشہد میں ایسا کرتے تھے۔
اگر صحیح بخاری میں پیش کردہ روایت کو پہلے تشہد پر محمول کر لیا جائے تو بھی کوئی اشکال نہیں ہے جیسا کہ امام نسائی ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے کہ نماز میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ دائیں پاؤں پر بیٹھنا ہے۔
(سنن النسائي، التطبیق، حدیث: 1158) (2)
واضح رہے کہ نماز میں چارزانو بیٹھنا درست نہیں ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نماز میں چار زانو بیٹھنے سے کوئلوں پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے، البتہ عذر کی وجہ سے نفل یا فرض نماز میں چار زانو بیٹھا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 396/2)
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 827 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔