صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ الْمُكْثِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: باب: دونوں سجدوں کے بیچ میں ٹھہرنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : " كَانَ أَنَسُ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ " .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ` میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں ۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں: وقدترك الناس ھذہ السنة الثابتة بالأحادیث الصحیحة محدثھم وفقیھھم ومجتھدھم ومقلدھم فلیت شعري ما الذي عولوا علیه ذالك واللہ المستعان۔
یعنی صد افسوس کہ لوگوں نے اس سنت کو جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے چھوڑ رکھا ہے حتیٰ کہ ان کے محدث اور فقیہ اور مجتہد اور مقلد سب ہی اس سنت کے تارک نظر آتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے ان لوگوں نے کون سا بہانہ تلاش کیا ہے اور اللہ ہی مددگار ہے۔
دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا بھی مسنون ہے اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی وَارحَمنِی وَاجبرنِی وَاھدِنِی وَارزُقنِی۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت انس ؓ نماز پڑھتے وقت دو سجدوں کے درمیان کافی دیر بیٹھتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا کہ شاید آپ دوسرا سجدہ بھول گئے ہیں۔
حضرت انس ؓ کے شاگرد حضرت ثابت کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے تم لوگ نہیں بجا لاتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مخاطب ایسے لوگ تھے جو دونوں سجدوں کے درمیان دیر تک نہیں بیٹھتے تھے لیکن جب کسی سنت کا ثبوت مل جائے تو اس پر عمل کرنے والے کو مخالفین کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 390/2)
واللہ المستعان۔