صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ السُّجُودِ عَلَى الأَنْفِ وَالسُّجُودِ عَلَى الطِّينِ: باب: سجدہ کرتے ہوئے کیچڑ میں بھی ناک زمین پر لگانا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ : قُلْتُ : حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، قَالَ : " اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ الْأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَاعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ ، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ شَيْئًا ، فَجَاءَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے ۔ چنانچہ آپ تشریف لے چلے ۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے ، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں ( شب قدر ) وہ آگے ہے ۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی ۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ ( رات ) آگے ہے ۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا ۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے ۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی ۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا ۔ آپ کا خواب سچا ہو گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ترجمہ باب یہیں سے نکلتا ہے کہ آپ ﷺ نے پیشانی اور ناک پر سجدہ کیا۔
حمیدی نے اس حدیث سے دلیل لی کہ پیشانی اور ناک میں اگر مٹی لگ جائے تو نماز میں نہ پونچھے۔
حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد باب یہ ہے کہ سجدے میں ناک کو زمین پر رکھنا ضروری ہے کیوں کہ آنحضرت ﷺ نے زمین تر ہونے کے باوجود ناک زمین پر لگائی اور کیچڑ کی کچھ پرواہ نہ کی۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
(1)
امام بخاری ؒ کا یہ طویل حدیث بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ سجدے میں ناک کو زمین پر رکھنا ضروری ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کیچڑ آلود ہونے کے باوجود اپنی ناک کو زمین پر لگایا ہے اور کیچڑ وغیرہ کی کوئی پروا نہیں کی۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ ناک پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں پہلے عنوان میں کچھ عموم تھا، اس باب میں عمومیت کو خاص کر دیا گیا ہے۔
گویا آپ نے اشارہ کیا ہے کہ ناک پر سجدہ کرنا امر مؤکد ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عذر معقول کے باوجود اسے ترک نہیں کیا بلکہ ناک پر سجدہ کرنے کا اہتمام فرمایا۔
جو حضرات اس حدیث کی بنا پر ناک پر سجدہ کرنے کو کافی خیال کرتے ہیں ان کا موقف صحیح نہیں کیونکہ سیاق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشانی اور ناک پر سجدہ فرمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دوران سجدہ میں پیشانی اور ناک کو زمین پر لگانا ضروری ہے۔
اگر اس میں کچھ رخصت ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کم از کم اپنی پیشانی اور ناک کو کیچڑ سے آلودہ نہ ہونے دیتے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر دوران نماز میں نمازی کی پیشانی پر زمین کی گردوغبار لگ جائے تو نماز ہی میں اسے صاف کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 386/2) (3)
اس حدیث کے متعلقہ دیگر مباحث کو ہم کتاب فضل لیلة القدر (حدیث: 2016)
میں بیان کریں گے۔
إن شاءاللہ۔
شب قدر کی تعیین کے متعلق بہت اختلاف ہے۔
اس حدیث میں اکیسویں رات کا ذکر ہے۔
ممکن ہے اس سال اکیسویں رات کو شب قدر ہو لیکن ہمیشہ کے لیے اکیسویں رات کو شب قدر کا آنا اس سے ثابت نہیں ہوتا۔
بہرحال آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے حتمی اور یقینی طور پر اس رات کا تعین نہیں فرمایا۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے صرف اتنا مقصد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا تھا اور حدیث میں مذکور تمام واقعات مسجد میں پیش آئے تھے۔
واللہ أعلم
محدث العصر الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ ’’کیا تین مساجد: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ دوسری مساجد میں اعتکاف بیٹھنا جائز ہے؟ ‘‘
الجواب للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ»
اور اپنی بیویوں سے اس وقت جماع نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہو۔
[البقرة: 187]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔ جمہور علماء نے اس آیت کریمہ سے استدلال کر کے ہر مسجد میں اعتکاف کو جائز قرار دیا ہے۔ دیکھئے: [شرح السنة للبغوي ج 6 ص 394 مرعاة المفاتيح ج 7 ص 165]
اس کے مقابلے میں بعض لوگوں کا یہ مؤقف ہے کہ صرف تین مساجد میں ہی اعتکاف جائز ہے: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ!
ان کے نزدیک دیگر مساجد میں اعتکاف جائز نہیں ہے۔
یہ لوگ اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک روایت پیش کرتے ہیں: «سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِيْ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ لِعَبْدِاللهِ: عُكُوفٌ بَيْنَ دَارِكَ وَدَارِ أَبِيْ مُوسَي لَاتُغَيِّرُ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: تین مساجد کے علاوہ (کسی مسجد میں) اعتکاف نہیں ہے۔
[المعجم للاسماعيلي 2/3/ 720 ح 336 واللفظ له، سير اعلام النبلاء للذهبي 15/ 81، وقال: ’’صحيح غريب عال‘‘ السنن الكبريٰ للبيهقي 4/ 316، مشكل الآثار 4/ 20، المحليٰ لا بن حزم 5/ 194، مسئله: 633]
یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔
اس کی تمام اسانید میں سفیان بن عیینہ راوی موجود ہیں جو کہ عن سے روایت کرتے ہیں۔
کسی ایک سند میں بھی ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے، سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ثقہ حافظ اور مشہور مدلس تھے۔
حافظ ابن حبان لکھتے ہیں: «وهذا ليس فى الدنيا إلا لسفيان بن عيينة وحده فإنه كان يدلس ولا يدلس إلا عن ثقة متقن»
دنیا میں اس کی مثال صرف سفیان بن عیینہ ہی اکیلے کی ہے، کیونکہ آپ تدلیس کرتے تھے مگر ثقہ متقن کے علاوہ کسی دوسرے سے تدلیس نہیں کرتے تھے۔
[الاحسان بترتيب صحيح ابن حبان ج 1 ص 90، دوسرا نسخه ج 1 ص 161]
امام ابن حبان کے شاگرد امام دارقطنی وغیرہ کا بھی یہی خیال ہے۔ دیکھئے: [سوالات الحاكم للدارقطني ص 175]
امام سفیان بن عیینہ درج ذیل ثقات سے بھی تدلیس کرتے تھے: 1) علی بن المدینی، 2) ابو عاصم، اور
3) ابن جریج
[الكفاية فى علم الروايه للخطيب ص 362، نعمت الاثاثه لتخصيص الاعتكاف بالمساجد الثلاثه ص 79]
ایک دفعہ سفیان (بن عیینہ) نے (امام) زہری سے حدیث بیان کی بعد میں پوچھنے والوں کو بتایا کہ میں نے یہ زہری سے نہیں سنی اور نہ اس سے سنی ہے جس نے زہری سے سنا ہے۔
«لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَلَا مِمَّنْ سَمِعَهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِيْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ»
مجھے عبدالرزاق نے عن معمر عن الزہری یہ حدیث سنائی ہے۔
[علوم الحديث للحاكم ص 105، الكفايه ص 359، مقدمه ابن الصلاح ص 95، 96، اختصار علوم الحديث ص 51، تدريب الراوي ج 1 ص 224، فتح المغيث ج 1 ص 183]
تنبیہ: اس روایت کی سند ابراہیم بن محمد السکونی السکری کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ایک دفعہ آپ نے عمرو بن دینار (ثقہ) سے ایک حدیث بیان کی۔ پوچھنے پر بتایا کہ: «حَدَّثَنِيْ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ»
مجھے علی بن مدینی نے عن الضحاک بن مخلد عن ابن جریج عن عمرو بن دینار کی سند سے یہ حدیث سنائی۔
[فتح المغيث 1 ص 184]
[یہ روایت صحیح سند کے ساتھ الکفایہ ص 359۔ 360 میں مطولاً موجود ہے۔]
حدیث اور اصول حدیث کے عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ یہ سند ابن جریج کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابن جریج کا ضعفاء سے تدلیس کرنا بہت زیادہ مشہور ہے۔ دیکھئے: [الفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين ص 55، 56]
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابن عیینہ جن ثقہ شیوخ سے تدلیس کرتے تھے ان میں سے بعض بذاتِ خود مدلس تھے مثلاً ابن جریج وغیرہ۔ ابن عیینہ کے اساتذہ میں امام زہری، محمد بن عجلان اور سفیان ثوری وغیرہم تدلیس کرتے تھے لہٰذا امام سفیان بن عیینہ کا عنعنہ مشکوک ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ آپ صرف ثقہ سے ہی تدلیس کرتے تھے، محل نظر ہے۔
سفیان (بن عیینہ) نے محمد بن اسحاق کے بارے میں امام زہری کا قول نقل کیا کہ: «أما إِنَّه لَايزَال فِي النَّاس علم مَا بقي هَذَا» «»
لوگوں میں اس وقت تک علم باقی رہے گا جب تک یہ (محمد بن اسحاق بن یسار) زندہ ہیں۔
[تاريخ يحييٰ بن معين ج 1 ص 504، دوسرانسخه 157 ت 979 من زوائد عباس الدوري، الكامل ابن عدي ج 6 ص 2119، ميزان الاعتدال ج 3 ص 472]
اس روایت میں سفیان کے سماع کی تصریح نہیں ہے۔
سفیان نے یہ قول ابوبکر الہذلی سے سنا تھا۔ [الجرح والتعديل ج 7 ص 191]
لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ سفیان بن عیینہ نے الہذلی سے تدلیس کی ہے۔
یہ الہذلی متروک الحدیث ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 397]
سفیان بن عیینہ نے حسن بن عمارہ (متروک / تقریب التہذیب ص 71) سے بھی تدلیس کی ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ [ص 151]
خلاصہ یہ کہ امام سفیان بن عیینہ کا صرف ثقہ سے ہی تدلیس کرنا محل نظر ہے، یہ اکثریتی قاعدہ تو ہو سکتا ہے کلی قاعدہ نہیں ہو سکتا۔
محدثینِ کرام نے ثقہ تابعی کی مرسل روایت اس خدشہ کی وجہ سے رد کر دی ہے کہ ہو سکتا ہے، اس نے غیر صحابی سے سنا ہو۔ اگر غیر صحابی (یعنی تابعی وغیرہ) سے سنا ہے تو ہو سکتا ہے کہ راوی ثقہ ہو یا ضعیف، لہٰذا مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے۔ بعینہ اسی طرح ’’لا اعتکاف‘‘ والی روایت دو وجہ سے ضعیف ہے: 1) ہو سکتا ہے کہ سفیان عیینہ نے یہ روایت ثقہ سے سنی تھی یا غیر ثقہ سے؟ اگر غیر ثقہ سے سنی ہے تو مردود ہے۔
2) اگر ثقہ سے سنی تھی تو ہو سکتا ہے یہ ثقہ بذات خود مدلس ہوں، جیسا کہ اوپر واضح کر دیا گیا ہے۔ جب سفیان کا استاد بذات خود مدلس ہے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس نے ضرور بالضروریہ روایت اپنے استاد سے ہی سنی تھی؟ جب اس کے سماع کی تصریح معلوم کرنا ناممکن ہے تو یہ خدشہ قوی ہے کہ اس کی بیان کردہ روایت اس کے ضعیف استاد کی وجہ سے ضعیف ہو۔ لہٰذا اس روایت کو شیخ ابو عمر عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کا حافظ ذہبی کی پیروی کرتے ہوئے، «صحيح عندي» کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ اصول حدیث کے سراسر خلاف ہے۔
جناب نورستانی صاحب اور جناب نجم اللہ سلفی صاحب حفظہما اللہ کی طرف راقم الحروف نے اردو زبان میں ایک خط لکھا تھا جس کا جواب کافی عرصے کے بعد عربی زبان وغیرہ میں ملا۔
اس جواب کے ملتے ہی راقم الحروف نے اس کا اردو میں جواب لکھ کر جناب نورستانی صاحب، جناب نجم اللہ صاحب اور بذریعہ خط کتابت جناب ڈاکٹر شجاع اللہ صاحب (لاہوری) کی خدمت میں ارسال کر دیا تھا۔
بعد میں شیخ نورستانی صاحب کی کتاب ’’نعمۃ الأ ثاثۃ لتخصیص الإعتکاف بالمساجد الثلاثۃ‘‘ ملی جس میں میرے پہلے خط کو ٹوٹی پھوٹی عربی میں ترجمہ کر کے مع جواب شائع کر دیا اور میرا دوسرا (تازہ) خط اس کتاب سے غائب ہے۔
میں نے لکھا تھا: «بسم الله الرحمان الرحيم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، اما بعد:»
جناب نورستانی صاحب اور جناب نجم اللہ صاحب کے نام!
آپ کا جواب ملا ہے، اس سلسلے میں چند معروضات پیشِ خدمت ہیں: 1- آپ اپنی مستدل سند میں امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے سماع کی تصریح ثابت نہیں کر سکے ہیں اور نہ کوئی متابعت پیش کر سکے ہیں۔
2- امام ابن عیینہ رحمہ اللہ ثقہ مدلسین مثلاً امام ابن جریج رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی تدلیس کرتے تھے لہٰذا ان کا عنعنہ مشکوک ہے۔ اس کا آپ دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
3- ابوبکر الہذلی کے سلسلے میں آپ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ کا قول الہذلی سے بھی سنا ہے اور امام زہری سے بھی۔ حالانکہ الجرح والتعدیل یا کسی کتاب سے یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے خود یہ قول امام زہری سے سنا ہے۔
الہذلی کے قصہ میں درج ذیل باتیں مدنظر رکھیں: 1) سفیان نے محمد بن اسحاق کو زہری کے پاس دیکھا۔
2) ابن اسحاق نے زہری سے ان کے دربان کی شکایت کی۔
3) زہری نے دربان کو بلا کر سمجھایا۔
4) الہذلی نے زہری کا قول سفیان کو سنایا: ’’لا یزال بالمدینۃ علم…‘‘ إلخ
ان میں اول الذکر تین شقوں میں سفیان کا سماع ہے آخری شق میں نہیں، لہٰذا بعض راویوں کے اختصار سے آپ کا استدلال صحیح نہیں ہے۔
ابو قلابہ الرقاشی سے قطع نظر ’’اعلم بغزا‘‘ والی روایت اور ہے، «لايزال بالمدينه لايزال بالمدينه» والی اور، اسے المزید فی متصل الاسانید سے سمجھنا صحیح نہیں ہے۔
آپ میرے سابق خط کے المشار الیہا صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں … … … … …
ابو قلابہ عبدالملک بن محمد الرقاشی کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ حسن الحدیث تھے کیونکہ جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ روایتِ مذکورہ میں محمد بن جعفر بن یزید اور محمد بن ابراہیم المزنی کی توثیق مطلوب ہے۔
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی تدلیس کے بارے میں چند مزید فوائد پیشِ خدمت ہیں: 1- ابو حاتم الرازی نے سفیان بن عیینہ عن ابن ابی عروبہ والی ایک روایت کے بارے میں فرمایا: اگر یہ (روایت) صحیح ہوتی تو ابن ابی عروبہ کی کتابوں میں ہوتی اور ابن عیینہ نے اس حدیث میں سماع کی تصریح نہیں کی اور یہ بات اسے ضعیف قرار دے رہی ہے۔ [علل الحديث 1/ 32 ح 60، الفتح المبين ص 41]
2- ابن ترکمانی حنفی نے کہا: ’’ثم إن ابن عیینۃ مدلس وقد عنعن فی السند‘‘ پھر اس میں ابن عیینہ مدلس ہیں اور انھوں نے عن سے سند بیان کی ہے۔ [الجوهر النقي 2/ 138]
نیز دیکھئے: [المستدرك للحاكم 2/ 539 ح 3985]
4- جناب نجم اللہ صاحب کا صحیحین پر طعن کرنا کہ ’’اور شروط سماع نہ ہوں تو بھی روایت مردود ہو گی‘‘ غلط ومردود ہے۔
صحیحین کو تلقی بالقبول حاصل ہے بلکہ ان کی صحت پر اجماع ہے۔ صرف یہی دلیل اس بات کے لئے کافی ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی روایات سماع یا متابعت پر محمول ہیں۔
5- امام سفیان بن عیینہ کی معنعن روایت بلحاظِ سند ضعیف و بلحاظ متن منکر ہے لہٰذا اسے «صحيح عندي» کہنا غیر صحیح ہے۔
6- آپ دونوں حضرات سے درخواست ہے کہ اس ضعیف و معلول روایت کو لوگوں میں پھیلا کر اُمت میں فتنہ پیدا نہ کریں۔ وما علینا إلا البلاغ، زبیر علی زئی، 99۔ 10۔ 14‘‘
اس خط کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔
مختصر عرض ہے کہ سفیان بن عیینہ کی بیان کردہ روایت: «لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ» بلحاظ سند ضعیف ہے۔
اس میں اور بھی بہت سی علتیں ہیں۔
مثلاً اس کے متن میں اختلاف وتعارض ہے، موقوف و مرفوع ہونے میں بھی اختلاف ہے۔
اس اختلاف کی بنیاد وہ نامعلوم شخص ہے جس نے سفیان بن عیینہ کو یہ حدیث سنائی ہے۔ جمہور علماءِ اسلام کے بعض اعتراضات ’’نعمت الاثاثہ‘‘ نامی کتاب میں بھی موجود ہیں۔ فاضل مولف نے ان اعتراضات کے ناکام جوابات دینے کی کوشش کی ہے لیکن حق وہی ہے جو جمہور علماء اسلام نے قرآن مجید کی آیت کریمہ: ﴿وَاَنْتُمْ عَاكِفُوْنَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ سے سمجھا ہے۔
یہاں بطور نکتہ عرض ہے کہ ’’المساجد‘‘ کی تخصیص تین مساجد: (مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ) کے ساتھ کرنا تاریخی طور پر بھی غلط ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں کا مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کرنا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے، بلکہ بیت المقدس (جہاں مسجد اقصیٰ موجود ہے) اس زمانے میں صلیبی پولسی عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ اسے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے 15ھ میں فتح کیا۔ دیکھئے: [البدايه والنهايه ج 7 ص 56 وغيره]
لہٰذا اس آیت کریمہ کے شانِ نزول میں مسجد حرام، مسجد نبوی کے ساتھ وہ تمام مساجد شامل ہیں جو کہ عہد نبوی میں موجود تھیں۔ مساجد کا لفظ کم از کم تین (یا اس سے زیادہ) مسجدوں پر مشتمل ہے۔
شان نزول کے وقت مسجد اقصیٰ کے خروج سے یہ خود بخود ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام مساجد بشمول مساجد ثلاثہ میں اعتکاف میں بیٹھنا جائز ہے۔ [شهادت، جنوري 2000ء]
«لا اعتكاف» والی روایت ضعیف ہے: سوال: اعتکاف کے سلسلے میں آپ کی تحقیق کیا ہے؟ (ایک سائل)
الجواب: امام ابو حاتم رازی نے ’’لااعتکاف‘‘ والی روایت کے راوی امام سفیان بن عیینہ کی ایک حدیث کو اس وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس میں سفیان مذکور نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ [علل الحديث ج 1 ص 32 ح 60 والمخطوطه 18، وفوائد فى كتاب العلل بقلم المعلمي ص 29]
شیخ ناصر بن حمد الفہد نے لکھا ہے: «وهذا يفيد أن ابن عيينة أحيانًا يدلس عن الضعفاء»
اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ابن عیینہ بعض اوقات ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔
[منهج المتقد مين فى التدليس ص 36]
سعودی عرب کے مشہور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن السعد حفظہ اللہ نے اس کتاب کی تقریظ لکھی ہے۔
ان دو تازہ حوالوں سے بھی یہی ثابت ہوا کہ «لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ» (تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں ہے) والی حدیث ضعیف ہے۔ [شهادت، جنوري 2003ء]
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 147 تا 154) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شب قدر کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، آپ کے پاس جبرئیل ؑ آئے اور کہا: آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ آگے ہے، پھر آپ نے دوسرے عشرے کا اعتکاف کیا تو دوبارہ حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آ گئے اور کہا: آپ جس کے متلاشی ہیں وہ اس کے آگے ہے، آخر کار آپ نے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا پروگرام بنایا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 813) (2)
صحیح بخاری کی مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بیسویں تاریخ کی صبح کو برآمد ہوئے اور اسی وقت آپ نے خطبہ دیا، اس کے بعد اکیسویں رات سے اپنے اعتکاف کا آغاز کیا لیکن مؤطا امام مالک کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکیسویں شب کی صبح کو باہر تشریف لائے اور خطبہ دیا، پھر آپ نے بائیسویں رات کو آخری عشرے کے اعتکاف کا آغاز کیا۔
(الموطأ للإمام مالك، الاعتکاف، حدیث: 715)
امام مالک کی روایت مرجوح ہے کیونکہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ جب بیسویں رات گزر گئی اور اکیسویں کی آمد آمد تھی تو اس وقت آپ اپنی اعتکاف گاہ میں واپس آ گئے، اس موقف کی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص میرے ہمراہ معتکف تھا اسے چاہیے کہ وہ لوٹ آئے اور میرے ساتھ آخری عشرے کا اعتکاف کرے۔
‘‘ اور آخری عشرہ اکیسویں رات سے شروع ہوتا ہے۔
اس بنا پر امام مالک کی روایت مرجوح ہے۔
(فتح الباري: 327/4)
(1)
صحیح مسلم میں یہ حدیث ان الفاظ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، پھر جب بھی اعتکاف کے لیے آیا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، لہذا تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہے وہ (آخری عشرے میں)
اعتکاف کرے۔
‘‘ اس کے بعد لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2769(1167) (2)
زیادہ سے زیادہ یا کم از کم مدتِ اعتکاف کی کوئی حد نہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ رات کے اعتکاف کے ساتھ دن کا اعتکاف کرنا بھی ضروری ہے لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پابندی ضروری نہیں، تاہم جو یہ کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے آئیں تو اعتکاف کی نیت کر لیں، اس کی کوئی اصل نہیں۔
یہ بے بنیاد بات ہے۔
(3)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے: جس نے رات کا اعتکاف کرنا ہے وہ غروب آفتاب سے پہلے اعتکاف شروع کرے اور طلوع فجر تک اسے جاری رکھے۔
جس نے صرف دن کا اعتکاف کرنا ہے وہ طلوع فجر سے پہلے اس کا آغاز کرے اور غروب آفتاب کے بعد اسے ختم کرے اور جس نے رات اور دن دونوں کا اعتکاف کرنا ہو اسے چاہیے کہ وہ غروب آفتاب سے پہلے اس کا آغاز کرے اور اگلے دن غروب آفتاب کے بعد وہاں سے نکلے۔
(فتح الباري: 358/4)
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث کے مطابق اس سال اکیسویں تاریخ کو شب قدر تھی۔
(2)
دیگر احادیث سے ستائیسویں رات کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ وہ شب قدر ہے۔
عین ممکن ہے کہ جس سال صحابۂ کرام ؓ کو اس رات کا ادراک ہوا اس سال وہی شب قدر تھی، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہمیشہ وہی رات شب قدر ہو گی۔
اس رات کی تعیین کے متعلق علمائے امت کے بہت سے اقوال ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں 46 اقوال نقل فرمائے ہیں۔
آخر میں اپنا فیصلہ بایں الفاظ دیا ہے: ان سب میں ترجیح اس قول کو ہے کہ یہ مبارک رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور یہ ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے۔
شوافع نے اکیسویں رات کو شب قدر قرار دیا ہے اور جمہور ستائیسویں رات کو ترجیح دیتے ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے ہر سال کے لیے کسی خاص تاریخ کے ساتھ متعین نہیں کیا جا سکتا، نیز یہ ایک پوشیدہ رات ہے اور اس رات کے مخفی ہونے میں حکمت یہ ہے کہ اس کی تلاش کے لیے کوشش جاری رکھی جائے۔
اگر اسے معین کر دیا جاتا تو پھر اسی رات پر ہی اکتفا کر لیا جاتا۔
(فتح الباري: 338/4)
واللہ أعلم
امام مالک نے جب اس روایت کو بیان کیا ہے تو بایں الفاظ ذکر کیا ہے: ہم ایک سال رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اعتکاف میں تھے، جب اکیسویں رات آئی جس کی صبح کو آپ اعتکاف گاہ سے نکلے تھے۔
(صحیح البخاري، الاعتکاف، حدیث: 2018)
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: اکیسویں رات کی صبح سے مراد بیسویں دن کی صبح ہے، یعنی بیسویں روزے کی صبح جس کے بعد آنے والی رات اکیسویں تھی۔
بعض اوقات کسی چیز کے ماقبل کو اس کی طرف مضاف کر دیا جاتا ہے۔
کلام عرب میں یہ اسلوب بھی مستعمل ہے۔
(فتح الباري: 356/4)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے) مہینہ کے بیچ کے دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے، جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں کا استقبال کرتے تو آپ اپنے گھر واپس آ جاتے، اور وہ لوگ بھی واپس آ جاتے جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک مہینہ ایسا ہوا کہ آپ جس رات گھر واپس آ جاتے تھے اعتکاف ہی میں ٹھہرے رہے، لوگوں کو خطبہ دیا، اور انہیں حکم دیا جو اللہ نے چاہا، پھر فرمایا: ” میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر میرے جی میں آیا کہ میں ان آخری دس دنوں میں اعتکاف کروں، تو جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں ہے تو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرا رہے، میں نے اس رات (لیلۃ القدر) کو دیکھا، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں “، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اکیسویں رات کو بارش ہوئی تو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر ٹپکنے لگی، چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہیں، اور آپ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1357]
➋ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ماتھا وغیرہ پونچھ لینا چاہیے تاکہ سجدے میں اگر کوئی تنکا یا مٹی لگی ہو تو صاف ہو جائے۔ اس طرح ریاکاری کا خطرہ نہیں رہے گا۔ مندرجہ بالا روایات میں تو ابھی آپ نے سلام پھیرا ہی تھا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی، لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ (دہے) کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1766]
فوائد و مسائل:
(1)
شب قدر سال کی سب سے افضل رات ہے اس کی ایک رات کی عبا دت ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے (القدر: 97/3)
(2)
شب قدر کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے اعتکاف کرنا سنت ہے البتہ جو شخص اعتکاف نہ کر سکے اسے بھی راتیں عبادت میں گزارنے کی کو شش کرنی چاہیے
(3)
شب قدر بھلائے جا نے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ با ت یا د نہ رہی کہ اس سال کون سی رات شب قدر ہے ہر سال اسی رات میں ہونا ضروری نہیں۔
(4)
شب قدر آخری عشرے کی طا ق راتو ں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اس لئے جو شخص دس راتیں عبادت نہ کر سکے اسے یہ پا نچ راتیں ضرور عبادت اور تلاوت و ذکر میں گزارنی چاہیں تاکہ شب قدر کی عظیم نعمت سے محروم نہ رہے
(5)
اگرچہ علمائے کرام نے شب قدر کی بعض علامتیں بیان کی ہیں لیکن ثواب کا دارومدار اس چیز پر نہیں کہ عبادت کرنے والے کو یہ رات معلوم ہوئی یا نہیںں اس لئے اس پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں فلاں فلاں علامت کا احسا س نہیں ہوا۔