صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ الاِطْمَأْنِينَةِ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: باب: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : " كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يُرِينَا كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْصَبَ هُنَيَّةً ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ شَيْخِنَا هَذَا أَبِي بُرَيْدٍ ، وَكَانَ أَبُو بُرَيْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ نَهَضَ " .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ` مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے ۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی ۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے ہر رکن کو پورے سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے کہ جسم کا ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر سکون و اطمینان سے ٹھہر جائے۔
شریعت کی نظر میں طویل قیام کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ قیام میں حالات و ظروف کے پیش نظر کمی و بیشی ہو سکتی ہے لیکن مواضع اربعہ، یعنی رکوع، قومہ، سجدہ اور درمیانی نشست کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا معمول ہمیشہ یکساں رہا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ حدیث میں مذکور شیخ سے مراد حضرت عمرو بن سلمہ جرمی ہیں۔
(فتح الباري: 375/2)
اس حدیث میں جلسۂ استراحت کا بھی بیان ہے جس کی وضاحت ہم حدیث: 823 میں کریں گے۔
رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں یا نہیں اس مسئلے میں صراحت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے مگر بہتر یہی ہے کہ قیام میں ہاتھ نہ باندھے جائیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے چاہئیں یا چھوڑ دینے چاہئیں تو انہوں نے فرمایا: «أرجو أن لا يضيق ذلك إن شاء الله» [مسائل احمد رواية صالح بن احمد بن حنبل: 615]
’’مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ اس میں کوئی تنگی نہیں ہے۔“
(1)
اس حدیث سے جلسۂ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے جس کی صورت ایک طریق میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: رسول اللہ ﷺ اللہ أکبر کہتے ہوئے (دوسرے سجدے سے)
اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے ہوئے اس پر بیٹھتے پھر (دوسری رکعت کے لیے)
کھڑے ہوتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 730) (2)
جلسۂ استراحت سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر اٹھنا چاہیے جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت ہے۔
(3)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کو واجب کہتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مسیئ الصلاة کو اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6251)
مذکورہ حدیث کے راوی حضرت مالک بن حویرث ؓ کو اعمال صلاۃ بتانے کے بعد آپ ﷺ نے آخر میں فرمایا تھا: ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631) (4)
امام ترمذی ؒ نے دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد اٹھنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔
اس کے لیے انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ؓ سے مروی مذکورہ حدیث صحیح بخاری ذکر کی، پھر فرمایا کہ اسی پر بعض اہل علم، امام اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب کا عمل ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 287)
پھر امام ترمذی ؒ نے ایک دوسرا باب قائم کیا ہے اور حدیث ابو ہریرہ ؓ بیان کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد جلسۂ استراحت کیے بغیر اپنے پاؤں کے پنجوں پر کھڑے ہوتے تھے اور اس پر لکھا ہے کہ اس پر بھی بعض اہل علم کا عمل ہے لیکن اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس میں ایک راوی خالد بن ایاس ہے جو محدثین کے ہاں ضعیف ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 288)
علامہ البانی ؒ نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(إرواءالغلیل، حدیث: 362) (5)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کی بابت اختلاف کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی عادت ہمیشہ جلسۂ استراحت کرنے کی ہوتی تو ہر شخص اسے بیان کرتا جو طریقۂ نماز بیان کرتا ہے۔
اس کا جواب حافظ ابن حجر ؒ نے بایں الفاظ دیا ہے کہ متفق علیہ سنتوں کو ہر ایک نے مکمل طور پر بیان نہیں کیا بلکہ ان کے مجموعے کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لیا گیا ہے، اس لیے اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 391/2)
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نماز میں سجدۂ تلاوت سے اٹھ کر امام اور مقتدی جلسۂ استراحت کے لیے نہیں بیٹھتے بلکہ سجدے سے سیدھے قیام کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، حالانکہ اس مسئلے کے متعلق وارد احادیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے کہ سجدۂ تلاوت کرنے کے بعد بھی جلسۂ استراحت کیا جائے۔
واللہ أعلم۔
(6)
مخالفینِ جلسۂ استراحت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کچھ آثار بھی پیش کرتے ہیں لیکن مرفوع احادیث کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
واللہ أعلم۔
(7)
اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کمزوری یا بیماری کی وجہ سے جلسۂ استراحت کیا تھا۔
اسی طرح یہ قیاس بھی درست نہیں کہ نماز کا موضوع استراحت نہیں۔
یہ قیاس نص کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 287]
1؎:
اس بیٹھک کا نام جلسئہ استراحت ہے، یہ حدیث جلسئہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے، جو لوگ جلسئہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں، لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائقِ التفات نہیں، نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آ رہی ہے۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 844]
➊ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پہلی اور تیسری رکعت میں جلسہ استراحت مسنون اور مستحب ہے۔
➋ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تعیم نماز کے بالخصوص بہت ہی حریص تھے۔ انہوں نے اس کی جزیات تک محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہو جاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1154]
➋ بالتبع یہ بھی معلوم ہوا کہ اٹھتے وقت گھٹنے پہلے اٹھائے جائیں گے اور ہاتھ بعد میں کیونکہ سہارا بعد میں ہٹایا جاتا ہے اور اسی میں سہولت ہے۔ بوڑھے بھی آسانی سے اٹھ سکیں گے۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہو جاتے نہیں اٹھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1153]
«. . . وعن مالك بن الحويرث رضي الله عنه: أنه رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يصلي فإذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا . رواه البخاري. . . .»
”. . . سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی وتر (رکعت) پڑھتے تو (پہلے تھوڑا) بیٹھتے پھر سیدھا کھڑے ہو جاتے۔ (بخاری) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 240]
«فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ» جب آپ طاق رکعت، یعنی پہلی یا تیسری رکعت مکمل فرما لیتے اور دوسری یا چوتھی کے لیے کھڑا ہونا چاہتے۔
«لَمْ يَنْهَضْ» نہ کھڑے ہوتے۔
«حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا» حتی کہ پہلے سیدھے ہو کر مکمل طور پر بیٹھ جاتے۔ اسے جلسہ استراحت کہتے ہیں اور یہ مسنون و مشروع ہے۔
فائدہ:
اس حدیث سے جلسہ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں مگر امام احمد اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اس کے قائل نہیں۔ وہ اسے بڑھاپے پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن یہ تاویل درست نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سے فرمایا تھا: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُنِي أُصَلِّي» ”تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري، الصلاة، حديث: 631] اور وہی بیان کرتے ہیں کہ آپ جلسہ استراحت کرتے تھے۔ خود راوی حدیث نے جب اسے پڑھاپے پر محمول نہیں کیا تو پھر یہ محمول تحکم محض ہے۔