صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ الاِطْمَأْنِينَةِ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: باب: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا۔
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : " كَانَ أَنَسٌ يَنْعَتُ لَنَا صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُصَلِّي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ نَسِيَ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
800. حضرت ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ ہمیں نبی ﷺ کی نماز کا اندازہ بیان کرتے تھے، چنانچہ وہ نماز میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہم (آپس میں) کہتے: شاید آپ بھول گئے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:800]
حدیث حاشیہ: قسطلانی ؒ نے کہا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا ایک لمبا رکن ہے۔
جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ان کا قول فاسد اور ناقابل توجہ ہے۔
جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ان کا قول فاسد اور ناقابل توجہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
800. حضرت ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ ہمیں نبی ﷺ کی نماز کا اندازہ بیان کرتے تھے، چنانچہ وہ نماز میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہم (آپس میں) کہتے: شاید آپ بھول گئے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:800]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت میں اختصار ہے۔
امام بخاری ؒ نے باب المكث بین السجدتین میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ حضرت ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نماز پڑھتے وقت ایسے کام کرتے تھے کہ میں نے تم لوگوں کو وہ کام کرتے نہیں دیکھا۔
وہ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا: شاید آپ بھول گئے ہوں۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 821) (2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ثابت کے زمانے میں لوگ قومہ اور دو سجدوں کے درمیان بھی نشست کو لمبا نہیں کرتے تھے جبکہ حضرت انس ؓ انہیں اس قدر لمبا کرتے تھے کہ دیکھنے والے خیال کرتے شاید آپ بھول گئے ہیں۔
(3)
شارحین نے بھول جانے کے کئی ایک مفہوم بیان کیے ہیں، مثلاً: ٭ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔
٭ آپ بھول گئے کہ شاید نماز میں نہیں کھڑے۔
٭ آپ بھول کر یہ سمجھتے ہوں کہ شاید قنوت کا وقت ہے۔
(فتح الباري: 373/2)
(1)
اس روایت میں اختصار ہے۔
امام بخاری ؒ نے باب المكث بین السجدتین میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ حضرت ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نماز پڑھتے وقت ایسے کام کرتے تھے کہ میں نے تم لوگوں کو وہ کام کرتے نہیں دیکھا۔
وہ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا: شاید آپ بھول گئے ہوں۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 821) (2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ثابت کے زمانے میں لوگ قومہ اور دو سجدوں کے درمیان بھی نشست کو لمبا نہیں کرتے تھے جبکہ حضرت انس ؓ انہیں اس قدر لمبا کرتے تھے کہ دیکھنے والے خیال کرتے شاید آپ بھول گئے ہیں۔
(3)
شارحین نے بھول جانے کے کئی ایک مفہوم بیان کیے ہیں، مثلاً: ٭ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔
٭ آپ بھول گئے کہ شاید نماز میں نہیں کھڑے۔
٭ آپ بھول کر یہ سمجھتے ہوں کہ شاید قنوت کا وقت ہے۔
(فتح الباري: 373/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔