صحيح البخاري
كتاب العلم— کتاب: علم کے بیان میں
بَابُ الْخُرُوجِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ: باب: علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ قَاضِي حِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ ؟ فَقَالَ أُبَيٌّ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَتَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ ، قَالَ مُوسَى : لَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُوسَى : بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً ، وَقِيلَ لَهُ : إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ ، فَكَانَ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ ، فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى : أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ، قَالَ مُوسَى : ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي ، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا ، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ " .´ہم سے ابوالقاسم خالد بن خلی قاضی حمص نے بیان کیا ، ان سے محمد بن حرب نے ، اوزاعی کہتے ہیں کہ ہمیں زہری نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے خبر دی ، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ` وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں جھگڑے ۔ ( اس دوران میں ) ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا لیا اور کہا کہ میں اور میرے ( یہ ) ساتھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے ملنے کی موسیٰ علیہ السلام نے ( اللہ سے ) دعا کی تھی ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ان کا ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ ابی نے کہا کہ ہاں ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بیان فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ فرما رہے تھے کہ ایک بار موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی عالم موجود ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ( علم میں تم سے بڑھ کر ) ہے ۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کی راہ دریافت کی ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ( ان سے ملاقات کے لیے ) مچھلی کو نشانی قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو لوٹ جانا ، تب تم خضر علیہ السلام سے ملاقات کر لو گے ۔ موسیٰ علیہ السلام دریا میں مچھلی کے نشان کا انتظار کرتے رہے ۔ تب ان کے خادم نے ان سے کہا ۔ کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم پتھر کے پاس تھے ، تو میں ( وہاں ) مچھلی بھول گیا ۔ اور مجھے شیطان ہی نے غافل کر دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم اسی ( مقام ) کے تو متلاشی تھے ، تب وہ اپنے ( قدموں کے ) نشانوں پر باتیں کرتے ہوئے واپس لوٹے ۔ ( وہاں ) خضر علیہ السلام کو انہوں نے پایا ۔ پھر ان کا قصہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے طلب علم کے لیے ہر طرح کے سفر کا جواز بلکہ استحباب ثابت کیا ہے، یعنی اگر طلب علم یا تجارت کی ضرورت ہے تو سفر کرنے کی اجازت ہے۔
جب دنیوی ضرورت کے لیے سفر کیا جا سکتا ہے تو دینی ضرورت کے لیے اس کی ممانعت چہ معنی وارد؟2۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جواب کی بنیاد یہ تھی کہ آپ نبی تھے اور انبیاء کا علم دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے لیکن چونکہ انانیت اللہ کو پسند نہیں بلکہ اللہ کے حضور عاجزی اور تواضع محبوب ہے اس لیے عتاب ہوا کہ ہاں ہمارا بندہ خضر تم سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس سے مراد خاص جزئیات ہیں یقیناً اہل علم کو علم کی قدر ہوتی ہے اس لیے انھوں نے خضر سے ملنے کی خواہش کی۔
1-
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد قصہ بیان کرنا نہیں بلکہ کتاب العلم میں اس واقعے کو اس لیے بیان کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے وطن میں رہتے ہوئے شرف علم کے حصول میں کامیابی نہ ہو تو اس کے لیے ہر قسم کی مشکلات اور صعوبتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے حتی کہ اگر اسے بحری سفر بھی کرنا پڑے تو بھی اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے باوجود اس کے کہ آپ جلیل القدر اور صاحب کتاب پیغمبر ہیں بحری سفر کیا جس کا مقصد ایک زائد از ضرورت علم کا حصول تھا کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ضروری علوم تو پورے موجود تھے۔
2۔
حضرت حربن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے علم و فضل کی وجہ سے انھیں اپنی مجلس مشاورت میں شامل کیا تھا۔
اس مقام پر ان کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ اختلاف ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی حضرت خضر علیہ السلام ہیں یا کوئی اور۔
حربن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موقف کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام کے علاوہ کس کا نام لیتے تھے؟ واضح رہے کہ اس واقعے کے متعلق ایک اور اختلاف بھی ہوا کہ اس موسیٰ علیہ السلام سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران ہیں جو بنی اسرائیل کے رسول اور صاحب کتاب تھے یا کوئی اور موسیٰ ہیں؟ یہ اختلاف حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک واعظ نوف البکالی کے درمیان ہوا۔
نوف البکالی کا موقف تھا کہ یہ کوئی اور موسیٰ ہیں کیونکہ اتنا بڑا نبی حضرت خضر کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے جائے۔
یہ ناممکن ہے۔
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تردید فرمائی۔
(صحیح البخاري، کتاب العلم، حدیث: 122)
اس کی تفصیل کتاب التفسیر میں بیان کی جائے گی۔
3۔
ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ سمندری سفر حاجی، عمرہ کرنے والے اور غازی کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہے۔
(سنن أبی داؤد، الجہاد، حدیث: 2489)
اس صحیح حدیث سے اس ضعیف حدیث کی تردید بھی ہو جاتی ہے کہ سمندری سفر طالب علم کےلیے صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب البیوع میں التجارة فی البحر عنوان قائم کر کے اسے مزید واضح فرمایا ہے۔
4۔
حضرت خضر زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟ وہ نبی تھے یا ولی؟ نیز ان کے علم کی حقیقت کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس حیثیت سے ان کی شاگردی اختیار فرمائی؟ یہ تمام مباحث التفسیر میں ذکر ہوں گے۔
بإذن اللہ۔
راقم نے اس حدیث پر قدرے تفصیل سے اپنی شرح صحیح بخاری اور شرح مسلم میں بات کی ہے، اس موقع پر اس حدیث پر صرف ایک فائدہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خضر علیہ السلام کو ”عبـدا مـن عبادنا“ (ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ہے، (الکہف: 65) کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ سفید زمین کے ایک قطع پر بیٹھے ہوئے تھے تو وہ ان کے پیچھے سرسبز ہوکر لہلہانے لگا۔ (صحیح البخاری: 3402) یہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے آخر میں فرمایا: میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ (الکہف: 82) بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، جو وحی کی صورت میں انبیاء پر صادر ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک مفصل حدیث میں ان کا یہ کہنا کہ میرے پاس ایک علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے، تم اسے نہیں جانتے۔ ولی کتنا بھی مقرب ہو، اس کا الہام حجت نہیں ہے، نہ وہ الہام سے کسی کو قتل کر سکتا ہے، ورنہ ہر مومن اللہ کا ولی ہے۔ (البقرہ: 257) وہ اللہ کے امر کا بہانہ بنا کر جسے چاہے گا قتل کر دے گا، جبکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
محقق علماء جن میں امام بخاری رحمہ اللہ، ابن تیمیہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جیسے عظیم ائمہ شامل ہیں، فرماتے ہیں کہ خضر ع علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو سورہ آل عمران کی آیت (81) کے مطابق ان پر لازم تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ پر ایمان لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے، جبکہ ان کے آنے کا کہیں ذکر نہیں ہے، نہ کسی صحابی سے ان کے ملنے کا ذکر ہے، صحيح البخاری کی وہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات سے ایک سو سال پورے ہونے تک زمین کی پشت پر جو بھی ہے، کوئی بھی ان میں سے زندہ نہیں رہے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمین پر نہیں ہیں، بلکہ دریاؤں اور سمندروں میں رہتے ہیں، ان کا رد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل فرمایا: کوئی بھی جان جو آج پیدا ہو چکی ہے، اس پر سو سال نہیں آئیں گے کہ وہ اس وقت زندہ ہو۔ (صحیح مسلم: 2538)
جو لوگ سیدنا خضر علیہ السلام کے زندہ ہونے کے قائل ہیں، ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ تمام روایات جن میں خضر علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونے کا ذکر ہے، سب جھوٹی ہیں، اس واقعہ پر جامع تبصرہ دیکھنے کے لیے حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ کی کتاب “” تفسير القرآن الكريم “ (2/ 551,560) کا مطالعہ کریں۔