صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ: باب: نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَال : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ ، فَقَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے ۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا ۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا ۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا ۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
طبرانی میں اس کا اندازہ سورۃ الحاقہ مذکور ہے۔
ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں الم تنزیل اوردوسری رکعت میں سورة الدہر پڑھا کرتے تھے۔
جابر بن سمرہ ؓ کی روایت میں آپ کا فجر کی نماز میں سورۃ ق پڑھنا بھی آیا ہے۔
بعض روایات میں والصافات اور سورۃ واقعۃ پڑھنا بھی مذکور ہے۔
بہرحال فجر کی نماز میں قرات قرآن طویل کرنا مقصود ہے۔
یہ وہ مبارک نماز ہے جس میں قرات قرآن سننے کے لیے خود فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
(1)
نماز فجر میں قراءت کا اندازہ بیان کرنے میں راوئ حدیث شعبہ منفرد ہے۔
طبرانی کی روایت میں ہے کہ سورۂ الحاقہ یا اس طرح کی کوئی دوسری سورت پڑھتے تھے۔
اگر دونوں رکعات میں اتنی آیات پڑھتے تو قراءت سے متعلق یہ روایت حضرت ابن عباس ؓ سے مروی حدیث کے مطابق ہے کہ آپ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دھر پڑھتے تھے۔
اور اگر ایک رکعت میں مذکورہ مقدار تلاوت فرماتے تو یہ جابر بن سمرہ ؓ سے مروی حدیث کے مطابق ہے کہ آپ نماز صبح میں سورۂ ق، یا الصافات یا الواقعہ پڑھتے تھے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت ابو برزہ ؓ کی روایات کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ سفرو حضر کا معمول نبوی بیان کیا جائے اور آئندہ حدیث ابو ہریرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز صبح میں قراءت کے لیے مقدار معین کی کوئی شرط نہیں ہے۔
(فتح الباري: 326/2)
«. . . عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ . . .»
”. . . سیار بن سلامہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے باپ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان سے میرے والد نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کن وقتوں میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دوپہر کی نماز جسے تم ”پہلی نماز“ کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ اور جب عصر پڑھتے اس کے بعد کوئی شخص مدینہ کے انتہائی کنارہ پر اپنے گھر واپس جاتا تو سورج اب بھی تیز ہوتا تھا۔ سیار نے کہا کہ مغرب کے وقت کے متعلق آپ نے جو کچھ کہا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور عشاء کی نماز جسے تم «عتمه» کہتے ہو اس میں دیر کو پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے اور صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہو جاتے جب آدمی اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان سکتا اور صبح کی نماز میں آپ ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ وَقْتِ الْعَصْرِ:: 547]
روایت مذکور میں ظہر کی نماز کو نماز اولیٰ اس لیے کہا گیا ہے کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز کی تعلیم دینے کے لیے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے تھے تو انھوں نے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز ہی پڑھائی تھی۔ اس لیے راویان احادیث اوقات نماز کے بیان میں ظہر کی نماز ہی سے شروع کرتے ہیں۔ اس روایت اور دوسری روایات سے صاف ظاہر ہے کہ عصر کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اوّل وقت ایک مثل سایہ ہو جانے پر ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ان روایات میں مختلف الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ بعض روایتوں میں اسے «والشمس مرتفعة حية» سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابھی سورج کافی بلند اور خوب تیز ہوا کرتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایاکہ ”عصر کے وقت دھوپ میرے حجرہ ہی میں رہتی تھی۔“ کسی روایت میں یوں مذکور ہوا ہے کہ ”نماز عصر کے بعد لوگ اطراف مدینہ میں چار چار میل تک کا سفر کر جاتے اور پھر بھی سورج رہتا تھا۔“ ان جملہ روایات کا واضح مطلب یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عصر کی نماز اوّل وقت ایک مثل سایہ ہونے پر ادا کر لی جاتی تھی۔ اس لیے بھی کہ عصر ہی کی نماز صلوٰۃ الوسطیٰ ہے جس کی حفاظت کرنے کا اللہ نے خاص حکم صادر فرمایاہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ» [2-البقرة:238]
یعنی نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی خاص حفاظت کرو (جو عصر کی نماز ہے) اور اللہ کے لیے فرمانبردار بندے بن کر (باوفا غلاموں کی طرح مؤدب) کھڑے ہو جایا کرو۔
ان ہی احادیث و آیات کی بنا پر عصر کا اول وقت ایک مثل سایہ ہونے پر مقرر ہوا ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ و دیگر اکابر علمائے اسلام اور ائمہ کرام کا یہی مسلک ہے۔ مگر محترم علمائے احناف عصر کی نماز کے لیے اول وقت کے قائل نہیں ہیں۔ اور مذکورہ احادیث کی تاویلات کرنے میں ان کو بڑی کاوش کرنی پڑی ہے۔
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت . . . خدا و جبرئیل و مصطفی را
عجیب کاوش:
یہ عجیب کاوش ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان پر جس میں ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے اول وقت میں پڑھ لیا کرتے تھے کہ دھوپ میرے حجرہ سے باہر نہیں نکلتی تھی جس کا مطلب واضح ہے کہ سورج بہت کافی بلند ہوتا تھا۔ مگر بعض علمائے احناف نے عجیب بیان دیا ہے جو یہ ہے کہ: ”ازواجِ مطہرات کے حجروں کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں۔ اس لیے غروب سے پہلے کچھ نہ کچھ دھوپ حجرہ میں باقی رہتی تھی۔ اس لیے اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں دھوپ رہتی تھی تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سویرے ہی پڑھ لیتے تھے۔“ [تفہیم البخاری، پ 3، ص: 18] حمایت مسلک کا خبط ایسا ہوتا ہے کہ انسان قائل کے قول کی ایسی توجیہ کر جاتا ہے، جو قائل کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ سوچنا یہاں یہ تھا کہ بیان کرنے والی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں، جن کا ہر لحاظ سے امت میں ایک خصوصی مقام ہے۔ ان کا اس بیان سے اصل منشاءکیا ہے۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر کا اوّل وقت ان لفظوں میں بیان فرما رہی ہیں یا آخر وقت کے لیے یہ بیان دے رہی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بیان میں ادنیٰ غور وتامل سے ظاہر ہو جائے گا کہ ہمارے محترم صاحب تفہیم البخاری کی یہ کاوش بالکل غیر مفید ہے۔ اور اس بیان صدیقہ رضی اللہ عنہ سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلاشک و شبہ عصر کی نماز اوّل وقت ہی میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حرمین شریفین کا معمول آج بھی دنیائے اسلام کے سامنے ہے۔ خود ہمارے وطن کے ہزاروں حاجی حرمین شریفین ہر سال جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں عصر کی نماز کتنے اول وقت پر ادا کی جاتی ہے۔
صاحب تفہیم البخاری نے اس بیان سے ایک سطر قبل خود ہی اقرار فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اوّل وقت ہی میں پڑھتے تھے۔“ حوالہ مذکور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد کیا ضرورت تھی کہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کا سہارا لے کر حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا پر ایسی رکیک تاویل کی جائے کہ دیکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے وجہ حیرت بن جائے۔ حجرات نبوی کی دیواریں چھوٹی ہوں یا بڑی اس سے بحث نہیں مگر یہ تو ایک امر مسلمہ ہے کہ سورج جس قدر اونچا رہتا ہے حجرات نبوی میں دھوپ باقی رہتی اور جوں جوں سورج غروب ہونے کو جاتا وہ دھوپ بھی حجروں سے باہر نکل جاتی تھی۔ پھر دوسری روایات میں مزید وضاحت کے لیے یہ صریح الفاظ موجود ہیں کہ سورج بلند اور خوب روشن رہا کرتا تھا، ان الفاظ نے امام طحاوی کی پیش کردہ توجیہ کو ختم کر کے رکھ دیا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ تقلید شخصی کی بیماری سے سوچنے اور سمجھنے کی طاقت روبہ زوال ہو جاتی ہے اور یہاں بھی یہی ماجرا ہے۔
اس لیے راویان احادیث اوقات نماز کے بیان میں ظہر کی نماز ہی سے شروع کرتے ہیں۔
اس روایت اوردوسری روایات سے صاف ظاہر ہے کہ عصر کی نماز آنحضرت ﷺ اوّل وقت ایک مثل سایہ ہو جانے پر ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔
اس حقیقت کے اظہار کے لیے ان روایات میں مختلف الفاظ استعمال کيے گئے ہیں۔
بعض روایتوں میں اسے: ''والشمس مرتفعة حیة'' سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابھی سورج کافی بلند اورخوب تیز ہوا کرتا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایاکہ ’’عصر کے وقت دھوپ میرے حجرہ ہی میں رہتی تھی۔
‘‘ کسی روایت میں یوں مذکور ہوا ہے کہ ’’نماز عصر کے بعد لوگ اطراف مدینہ میں چار چار میل تک کا سفر کر جاتے اور پھر بھی سورج رہتا تھا۔
‘‘ ان جملہ روایات کا واضح مطلب یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں عصر کی نماز اوّل وقت ایک مثل سایہ ہونے پر ادا کرلی جاتی تھی۔
اس لیے بھی کہ عصر ہی کی نماز صلوٰۃ الوسطیٰ ہے جس کی حفاظت کرنے کا اللہ نے خاص حکم صادر فرمایا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے کہ ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ﴾ (البقرة: 238)
یعنی نمازوں کی حفاظت کرو اوردرمیانی نماز کی خاص حفاظت کرو (جوعصر کی نماز ہے)
اوراللہ کے لیے فرمانبردار بندے بن کر (باوفا غلاموں کی طرح مؤدب)
کھڑے ہو جایا کرو۔
ان ہی احادیث وآیات کی بنا پر عصر کا اول وقت ایک مثل سایہ ہونے پر مقرر ہوا ہے۔
حضرت امام شافعی ؒ امام احمد بن حنبل ؒ ودیگر اکابر علمائے اسلام اور ائمہ کرام کا یہی مسلک ہے۔
مگر محترم علمائے احناف عصر کی نماز کے لیے اول وقت کے قائل نہیں ہیں۔
اورمذکورہ احادیث کی تاویلات کرنے میں ان کو بڑی کاوش کرنی پڑی ہے۔
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت خدا و جبرئیل و مصطفی را عجیب کاوش: یہ عجیب کاوش ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے بیان پر جس میں ذکر ہے کہ حضور ﷺ عصر کی نماز ایسے اول وقت میں پڑھ لیا کرتے تھے کہ دھوپ میرے حجرہ سے باہر نہیں نکلتی تھی جس کا مطلب واضح ہے کہ سورج بہت کافی بلند ہوتا تھا۔
مگر بعض علمائے احناف نے عجیب بیان دیا ہے جو یہ ہے کہ: ’’ازواجِ مطہرات کے حجروں کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں۔
اس لیے غروب سے پہلے کچھ نہ کچھ دھوپ حجرہ میں باقی رہتی تھی۔
اس لیے اگر آنحضور ﷺ کی نماز عصر کے وقت حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں دھوپ رہتی تھی تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ نماز سویرے ہی پڑھ لیتے تھے۔
‘‘ (تفهیم البخاري،پ 3،ص: 18)
حمایت مسلک کا خبط ایسا ہوتا ہے کہ انسان قائل کے قول کی ایسی توجیہ کرجاتا ہے، جو قائل کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتی۔
سوچنا یہاں یہ تھا کہ بیان کرنے والی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہیں، جن کا ہر لحاظ سے امت میں ایک خصوصی مقام ہے۔
ان کا اس بیان سے اصل منشاء کیا ہے۔
وہ آنحضرت ﷺ کی نماز عصر کا اوّل وقت ان لفظوں میں بیان فرما رہی ہیں یا آخر وقت کے لیے یہ بیان دے رہی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بیان میں ادنیٰ غور وتامل سے ظاہر ہوجائے گا کہ ہمارے محترم صاحب تفہیم البخاری کی یہ کاوش بالکل غیرمفید ہے۔
اوراس بیان صدیقہ ؓ سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ بلاشک وشبہ عصر کی نماز اوّل وقت ہی میں پڑھ لیا کرتے تھے۔
جیسا کہ حرمین شریفین کا معمول آج بھی دنیائے اسلام کے سامنے ہے۔
خودہمارے وطن کے ہزاروں حاجی حرمین شریفین ہرسال جاتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ وہاں عصرکی نماز کتنے اول وقت پر ادا کی جاتی ہے۔
صاحب تفہیم البخاری نے اس بیان سے ایک سطر قبل خود ہی اقرار فرمایا ہے۔
چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور ﷺ بھی اوّل وقت ہی میں پڑھتے تھے۔
‘‘ حوالہ مذکور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد کیا ضرورت تھی کہ امام طحاوی ؒ کے بیان کا سہارا لے کر حضرت صدیقہ ؓ پر ایسی رکیک تاویل کی جائے کہ دیکھنے اورپڑھنے والوں کے لیے وجہ حیرت بن جائے۔
حجرات نبوی کی دیواریں چھوٹی ہوں یا بڑی اس سے بحث نہیں مگریہ تو ایک امر مسلمہ ہے کہ سورج جس قدر اونچا رہتا ہے حجرات نبوی میں دھوپ باقی رہتی اورجوں جوں سورج غروب ہونے کو جاتا وہ دھوپ بھی حجروں سے باہر نکل جاتی تھی۔
پھر دوسری روایات میں مزید وضاحت کے لیے یہ صریح الفاظ موجود ہیں کہ سورج بلند اورخوب روشن رہا کرتا تھا، ان الفاظ نے امام طحاوی ؒ کی پیش کردہ توجیہ کو ختم کرکے رکھ دیا۔
مگرواقعہ یہ ہے کہ تقلید شخصی کی بیماری سے سوچنے اور سمجھنے کی طاقت روبہ زوال ہوجاتی ہے اور یہاں بھی یہی ماجرا ہے۔
مذکورہ حدیث میں نماز عصر کے بارے جو کچھ بیان ہوا، یہ اس صورت میں ممکن ہے جب نماز عصر کو ایک مثل سایہ ہونے پر ادا کرلیا جائے، چنانچہ امام نوی ؒ لکھتے ہیں: اس حدیث سے مقصود نماز عصر کو اول وقت میں جلد ادا کرنا ہے، کیونکہ دیر سے نماز پڑھنے کے بعد یہ ممکن نہیں کہ دوتین میل سفر کیا جائے اور دھوپ کی تپش ابھی جوں کی توں باقی ہو۔
اس حدیث سے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ؒ کے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجائے توعصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جب تک کسی چیز کا سایہ دو مثل نہ ہوجائے نماز عصر کا وقت شروع نہیں ہوتا۔
یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
(شرح النووي: 5/171،172) (2)
نماز ظہر کو''أولی'' پہلی نماز اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دن کی پہلی نماز ہے، نیز جب حضرت جبرائیل ؑ نے نمازوں کے اوقات کے تعین کے لیے امامت کے فرائض سرانجام دیے تھے تو سب سے پہلے ظہر کی نماز ادا کی تھی۔
(فتح الباري: 37/2)
نماز عشاء کو"عتمة" اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے تاخیر سے پڑھا جاتا تھا، کیونکہ عتمة رات کے اس حصے کوکہتے ہیں جو شفق وغیرہ کے غائب ہونے کے بعد شروع ہو، یعنی اندھیرا اچھی طرح چھا جاتا تو اسے ادا کیا جاتا۔
علامہ طیبی ؒ فرماتے ہیں: نماز ظہر کےلیے"أولی" کے الفاظ اس بات کی نشاندہی کے لیے ہیں کہ اسے اول وقت ہی ادا کرنا چاہیے تاکہ ان معانی سے موافقت ہوجائے۔
(شرح الکرماني: 194/4) (3)
حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ نماز فجر سے فراغت کے بعد اندھیرے کی وجہ سے عورتوں کو شناخت کرنا ناممکن ہوتا تھا۔
(صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 578)
یہ حدیث مذکورہ حدیث سے متعارض نہیں ہے، کیونکہ جب پاس بیٹھے ہوئے آدمی کو بمشکل پہچانا جاتا تھا تو عورتوں کو جو دور اور چادروں میں لپٹی ہوتیں، پہچاننا واقعی ناممکن تھا۔
والله أعلم.
«. . . حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْهَالِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَبِي حَدِّثْنَا، " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ، قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " . . . .»
”. . . مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے عوف اعرابی نے، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح (یعنی کن کن اوقات میں) پڑھتے تھے۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» (ظہر) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ:: 599]
سورۃ مومنون میں یہ آیت ہے: «مستكبرين به سامرا تهجرون» یعنی تم ہماری آیتوں پر اکڑ کے بے ہودہ بکواس کیا کرتے تھے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عادت ہے کہ حدیث میں کوئی لفظ قرآن شریف کا آ جائے تو اس کی تفسیر بھی ساتھ ہی بیان کر دیتے ہیں۔
(1)
یہ حدیث پہلے (541)
نماز عصر کا وقت بیان کرتے ہوئے ذکر ہوئی تھی۔
امام بخاری ؒ نے اس مقام پر نماز عشاء کے بعد قصہ گوئی کی کراہت بیان کرنے کے لیے اسے دوبارہ ذکر کیا ہے۔
عشاء کے بعد باتیں کرنے اور قصہ گوئی میں مصروف ہونے کی کراہت اس لیے ہے کہ مبادا نماز فجر قضا ہو جائے یا کم از کم وقت مختار نکل جائے، نیز قیام اللیل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
حضرت عمر ؓ لوگوں کواس بات پر مارا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ شروع رات میں قصہ گوئی اور باتوں میں وقت خراب کرو گے تو رات کے آخری حصے میں نیند آئے گی۔
اس کے مفاسد محتاج بیان نہیں۔
(2)
اگر اس بات کو کراہت کی علت قرار دیا جائے تو بڑی اور چھوٹی راتوں میں فرق کیا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ دور اندیشی کے پیش نظر یہ ممانعت مطلق طور پر ہو، کیونکہ شریعت جب کسی چیز پر خرابی کے اندیشے سے کوئی حکم لگاتی ہے تو پھر وہ سختی سے قائم رہتی ہے، اس لیے شریعت نے نماز عشاء کے بعد مباح باتوں سے روک دیا ہے، کیونکہ حرام باتیں تو ہر وقت منع ہیں۔
(فتح الباري: 97/2)
تاہم ایسی باتیں جن میں دعوت و تبلیغ یا مسلمانوں کی فلاح و بہبود مقصود ہو، ان کے متعلق شریعت نرم گوشہ رکھتی ہے، جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، لیکن وہ اس حد تک ہونی چاہیے کہ نماز فجر متاثر نہ ہو۔
اگر نماز فجر قضا ہونے یا وقت مختار نکل جانے کا اندیشہ ہوتو عشاء کے بعد خیرو برکت پر مشتمل باتوں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
والله أعلم.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے اور عصر اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے آخری کنارے پر جا کر وہاں سے لوٹ آتا، اور سورج زندہ رہتا (یعنی صاف اور تیز رہتا) اور مغرب کو میں بھول گیا، اور عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، پھر انہوں نے کہا: آدھی رات تک مؤخر کرنے میں (کوئی حرج محسوس نہیں کرتے) فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے کو اور عشاء کے بعد بات چیت کو برا جانتے تھے، اور فجر پڑھتے اور حال یہ ہوتا کہ ہم میں سے ایک اپنے اس ساتھی کو جسے وہ اچھی طرح جانتا ہوتا، اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں پاتا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 398]
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا معمول رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں نماز پڑھتے تھے مگر نماز عشاء میں افضل یہ ہے کہ تاخیر کی جائے۔
➋ عشاء سے پہلے سونا اور بعد ازاں لایعنی باتوں اور کاموں میں لگے رہنا مکروہ، الّا یہ کہ کوئی اہم مقصد پیش نظر ہو، جیسے کہ بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مشغول گفتگو رہے تھے، مگر شرط یہ ہے کہ فجر کی نماز بروقت ادا ہو۔ دینی و تبلیغی اجتماعات جو رات گئے تک جاری رہتے ہیں ان میں اس مسئلے کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ فجر کی نماز ضائع نہ ہو۔
➌ فجر کی نماز کے بارے میں صحیح احادیث میں وضاحت آئی ہے کہ فراغت کے بعد ہمارا ایک آدمی اپنے ساتھی کو پہچان سکتا تھا نہ کہ نماز شروع کرتے وقت۔
➍ فجر کی نماز میں قرأت مناسب حد تک لمبی ہونی چاہیے۔
➊ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ان النبى و كان يكره النوم قبلها والحديث بعدها» ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس (یعنی نماز عشاء) سے پہلے نیند اور اس کے بعد باتیں کرنا نا پسند فرماتے تھے۔“
[بخاري: 547، كتاب مواقيت الصلاة: باب وقت العصر، مسلم 647، أبو داود 398، ترمذي 168، نسائي 262/1، ابن ماجة 701، ابن خزيمة 346، دارمي 298/1]
معلوم ہوا کہ عشاء سے پہلے سونے سے اور عشاء کے بعد فضول گپیں ہانکنے سے اجتناب کرنا چاہیے تاہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ”ایک رات میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تھے) تا کہ میں دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کیسے ادا کرتے ہیں۔ (حضرت ابن عباس رضی الله عنہ) مزید فرماتے ہیں کہ «فتحدث النبى مع أهله ساعة ثم رقد» ”کچھ دیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے باتیں کیں اور پھر سو گئے۔“
[أبو عوانة 315/2، عبد الرزاق 3862، طبراني 12165، ابن حبان 2579]
علاوہ ازیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔“ [صحيح: الصحيحة 2435، أحمد 389/1]
بظاہر یہ احادیث باہم متعارض نظر آتی ہیں یعنی پہلی حدیث میں ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گفتگو ناپسند فرماتے
تھے اور بعد والی احادیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود عشاء کے بعد گفتگو کیا کرتے تھے تو ان احادیث کو یوں جمع کیا گیا ہے۔ (نوویؒ) علماء کا اتفاق ہے کہ عشاء کے بعد باتیں کرنا مکروہ ہے لیکن ایسی باتیں کرنا جائز ہے جن میں خیر ہو (یعنی جو دعوت دین یا مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے متعلق ہوں)۔ [المجموع 44/3]311
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 311
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 531]
«. . . إذا راهم اجتمعوا عجل وإذا راهم ابطاوا اخر والصبح: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يصليها بغلس . . .»
”. . . صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے ہی میں پڑھتے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 130]
لغوي تشريح:
«رَحْلِهِ» ”را“ پر فتحه اور ”حا“ ساكن هے، یعنی جائے سکونت۔
«فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ» گرامر کے اعتبار سے یہ «رَحْل» سے حال واقع ہو رہا ہے۔ مدینہ کی انتہائی دور ترین جگہ۔
«وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ» اس میں ”واؤ“ حالیہ اور «يَرْجِعُ» کی ضمیر سے یہ جملہ حال واقع ہو رہا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ نماز سے فراغت کے بعد واپس جانے والا آدمی سورج غروب ہونے سے پہلے ہی اپنی جائے رہائش پر پہنچ جاتا (عصر کی نماز جلدی ادا کی جاتی تھی۔) اور سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ابھی سورج کی سفیدی، تپش والی روشنی اور حرارت باقی ہوتی تھی۔
«مِنَ الْعِشَاءَ» اس میں من تبعیضیہ ہے، مطلب یہ ہے کہ عشاء میں تھوڑی بہت تاخیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی۔
«يَنْفَتِلُ» «يَنْصَرِفُ» کے معنی میں ہے، یعنی فارغ ہوتے، پھرتے۔
«الْغَدَاةِ» فجر، صبح
«بِالسِّتِّينَ» ساٹھ آیات
«إِلَى الْمِائَةِ» سو تک، یعنی جب نماز میں اختصار کرنا چاہتے یا اگر آیات لمبی ہوتیں تو ساٹھ تک تلاوت فرماتے اور جب نماز لمبی کرنا چاہتے یا اگر آیات چھوٹی چھوٹی ہوتیں تو سو تک پڑھتے۔ نماز فجر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کو اچھی طرح پہچان نہ سکتا تھا۔ اتنی طویل قرأت اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر اول وقت میں پڑھتے تھے۔
«الغَلَسٍ» صبح کی سیاہی اور تاریکی جو اس کے اول وقت میں ہوتی ہے اس «غلس» کہتے ہیں۔
«إنْشَقَّ» پھٹنا، تاریکیٔ شب سے سپیدۂ صبح کا ظاہر ہونا۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں لفظ «غَلَس» سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اول وقت (اندھیرے) میں پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں آپ ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے اور وہ بھی ترتیل سے، ٹھہر ٹھہر کر۔ اس سے بھی اندازہ کر لیجئیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز کس وقت میں کرتے ہوں گے۔
➋ اس سے صاف معلوم ہوا کہ نماز فجر اول وقت (اندھیرے) میں پڑھنی چاہئے مگر صبح صادق کا اچھی طرح نمایاں ہونا ضروری ہے، اس لیے کہ اس سے پہلے تو نماز کا وقت ہی نہیں ہوتا۔
راویٔ حدیث:
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ابوبرزہ ان کی کنیت ہے۔ نضلہ بن عبید نام ہے۔ قدیم الاسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں فتح مکہ اور دوسرے غزوات میں شریک رہے۔ بصرہ میں سکونت اختیار کر لی تھی، پھر بعد میں خراسان چلے گئے۔ اور ایک قول کے مطابق مرو یا بصرہ میں 90 ھجری میں وفات پائی۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا سن وفات 64 ہجری ہے۔