صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البروج میں) فرمان ”بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ ، إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي فَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ " .´مجھ سے محمد بن غالب نے بیان کیا ، ان سے محمد بن اسماعیل بصریٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے ابورافع نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے ، چنانچہ یہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھا ہوا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
". . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے، چنانچہ یہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھا ہوا ہے۔" [صحيح البخاري: 7554]
اللہ تعالیٰ کے متعلق محدثین و سلف صالحین کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ✿ «الرَّحْمَـنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى» ’’ رحمن عرش پر مستوی ہوا۔" [20-طه:5]
↰ مستوی ہونے کا مفہوم بلند ہونا اور مرتفع ہونا ہے جیسا کہ: ❀ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الله كتب كتابا قبل ان يخلق الخلق إن رحمتي سبقت غضبي فهو مكتوب عنده فوق العرش»
’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے . . . جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے۔" [صحيح بخاري 7554]
↰ لیکن اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے، ہمارے عقلیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اس کا علم اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اس کی معیت ہر کسی کو حاصل ہے جیسا کہ یہ بات عقائد کی کتب میں واضح طور پر موجود ہے۔
اس کا جواب یہ دیا کہ قضی الخلق سے یہی مراد ہے کہ پہلے خلقت کا پیدا کرنا ٹھان لیا اگر یہ مراد ہو کہ پیدا کرچکا تب بھی موافقت اس طرح ہوگی کہ اس حدیث میں پیدا کرنے سے پہلے کتاب لکھنے سے یہ مراد ہے کہ کتاب لکھنے کا ارادہ کیا سووہ تو اللہ تعالیٰ ازل میں کرچکا تھا اور خلقت پیدا کرنے سے پہلے وہ موجود تھا۔
1۔
ان دونوں روایات میں بظاہر تضاد ہے۔
ایک میں ہے کہ مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد نوشتہ لکھا اور دوسری میں ہےکہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اسے تحریر کیا۔
اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ قضی الخلق کا مطلب ہے کہ اس نے پہلے خلقت کا پیدا کرنا ٹھان لیا۔
اگر اس سے مراد یہ ہو کہ وہ پیدا کر چکاتھا تو موافقت کی صورت یہ ہوگی کہ خلقت کی تخلیق سےپہلے تحریر لکھنے سے مراد کتاب لکھنے کا ارادہ کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ ازل میں کر چکا تھا۔
اور خلقت کی تخلیق سے پہلے وہ ارادہ موجود تھا۔
واللہ أعلم۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا نام مصاحف میں لکھا ہوتا ہے۔
قرآن اللہ اتعالیٰ کا کلام ہے اور کلام متکلم کی ایسی صفت ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے اس سے الگ نہیں ہوتی۔
کلام کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ وہ ذات سے الگ ہو کر کسی دوسری چیز میں حلول کر گئی ہے مخلوق میں سے جب کوئی کلام کرتا ہے تو وہ بھی ذات سے الگ نہیں ہوتی اور کسی دوسری چیز میں حلول نہیں کرتی۔
چہ جائیکہ کلام الٰہی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ ذات باری تعالیٰ سے الگ ہو کر کسی دوسری چیز میں حلول ہوئی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’وہ بہت خطرناک بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں سراسر جھوٹ ہے۔
‘‘ (الکهف: 18۔
5)
اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ خطرناک بات ان کے منہ سے نکلتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی ذات سے الگ نہیں ہوتی۔
3۔
پیش کردہ احادیث سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ ایسی فعلی صفات بھی ہیں جو اصل کے اعتبار سے قدیم ہوتی ہے لیکن مخلوق سے تعلق حادث ہوتا ہے جیسا کہ غضب اور رحمت ہے حدیث میں سبقت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تعلق اس کے غضب کے تعلق سے مقدم ہے۔
اگر یہ معنی نہ کیے جائیں تو رحمت کا غضب سے سبقت لے جانا متصور نہیں ہوتا کیونکہ غضب صفت قدیمہ ہے اور قدیم وہ ہوتا ہے جو مسبوق بالعدم نہ ہو اور نہ کوئی اس کے آگے ہی ہو اسی طرح کلام الٰہی قدیم ہے لیکن اس کا لوح محفوظ سے تعلق حادث ہے۔
واللہ أعلم۔
صفات الٰہی کے لیے جو الفاظ وارد ہوگئے ہیں ان کی حقیقت اللہ کے حوالہ کرنا اور ظاہر پر بلا چوں و چرا ایمان لانا یہی سلامتی کاراستہ ہے۔
طیبی نے کہا کہ رحمت کے غالب ہونے میں اشارہ ہے کہ رحمت کے مستحقین بھی تعداد کے لحاظ سے غضب کے مستحقین پر غالب رہیں گے، رحمت ایسے لوگوں پر بھی ہوگی جن سے نیکیوں کا صدور ہی نہیں ہوا۔
برخلاف اس کے غضب ان ہی لوگوں پر ہوگا جن سے گناہوں کا صدور ثابت ہوگا۔
اللهم ارحم علینا یا أرحم الراحمین۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہے۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7453)
جبکہ صفات باری تعالیٰ میں تقدم و تاخیر نہیں ہے دراصل رحمت کا تعلق غضب کے تعلق سے مقدم ہے کیونکہ رحمت اللہ کی ذات مقدسہ سے متعلق ہے اور غضب انسان کے عمل پر موقوف ہے۔
یہ تعلق حادث ہے اور اس میں تقدیم و تاخیر ممکن ہے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش کی تخلیق قلم سے پہلے ہوئی جس کے ذریعے سے نوشتہ تقدیر کو ضبط تحریر میں لایا گیا۔
3۔
واضح رہے کہ رحمت کے غالب ہونے میں اشارہ ہے کہ رحمت کے مستحقین بھی مقدار کے اعتبار سے غضب کے مستحقین پر غالب رہیں گےرحمت ایسے لوگوں پر بھی ہوگی جن سے نیکیوں کا صدورہی نہیں ہوا جبکہ اس کا غضب صرف ان لوگوں پر ہوگا جن سے گناہوں کا صدور ہوا ہوگا۔
بہر حال امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ابتدائے خلق کو ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
آیت سےکلام کےقدیم نہ ہونے اورحدیث سےرحم اورغصے کی قدیم نہ ہونے کااثبات کیا۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ تحریر جو اللہ تعالیٰ نے کائنات کے پیدا کرنے سے پہلے لکھی تھی اس میں یہ لکھا تھا کہ ہمارے بندے جو رسول ہیں۔
اخلاقی اعتبار سے ضرور غالب رہیں گے۔
یہ تحریر انبیاء اور ان کی قوموں سے پہلے لکھی گئی تھی اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ یعنی اس کا کلام غیر مخلوق ہے البتہ اس کا تعلق بندوں سے حادث ہے۔
2۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کی مدد کرنا اس رحمت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رحمت اور غضب قدیم صفات ہیں اور دونوں صفات فعل سے ہیں صفات ذات سے نہیں اور دونوں فعلوں میں سے ایک کی دوسرے پر سبقت جائز ہے کیونکہ رحمت کا تقاضا ہے کہ دوسروں کو خیر و بھلائی سے نوازا جائے جبکہ غضب بندے کی نا فرمانی کے باعث وجود میں آتا ہے لہٰذا یہ دونوں صفات فعل ہونے کے باوجود ایک کا دوسرے سے سبقت کرنا جائز ہے۔
واللہ اعلم۔w
یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جومخلوق نہیں ہے۔
مگر کاغذ سیاہی اورجلد یہ سب چیزیں مخلوق ہیں۔
مضمون باب میں کتب سابقہ کی تحریف کا ذکر ہےآج کل جو نسخے توراۃ وانجیل کے نام سے دنیا میں مشہور ہیں ان میں تحریف لفظی اورمعنوی ہردو طرح سےموجود ہے۔
اسی لیے اس پراجماع ہےکہ ان کتابوں کا مطالعہ اوراشتغال مضبوط الایمان لوگوں کےلیے جائز ہے جوان کارد کرنے اورجواب دینے کے لیے پڑھیں۔
آخر میں لوح محفوظ کا ذکر ہے۔
لوح محفوظ عرش کے پاس ہے۔
حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ صفات افعال جیسے رحم اورغضب وغیرہ یہ حادث ہیں ورنہ قدیم میں سابقیت اورمسبوقیت نہیں ہوسکتی۔
صحیح مسلم میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں لکھا اور وہ تحریر اس کے پاس عرش پر ہے: ’’میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، التوبة، حدیث: 6969(2751)
اس حدیث میں بھی ذات ِمقدسہ کے لیے لفظ نفس استعمال ہوا ہے۔
اس سے مراد ذات عالی صفات کے سمیت ہے۔
اس حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لکھا: ’’میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہے۔
‘‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ لیا ہے، یعنی اسے لازم کر لیا ہے۔
‘‘ (الأنعام: 54)
اس کتابت کے تین معنی ہیں:۔
اسے ظاہر پر محمول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے خود تحریر کیا، چنانچہ فرمان نبوی ہے: ’’جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے نوشتہ تقدیر لکھا۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4295)
۔
ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قلم کو لکھنے کا حکم دیا ہو اور اس کی بھی حدیث میں صراحت ہے۔
۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ "کن" سے ایسا کیا ہو، یعنی کن کہا اور نوشتہ تحریر ہو گیا۔
یہ تینوں معانی صحیح ہیں اور کتاب وسنت سے ثابت ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4295]
فوائد و مسائل:
(1)
جب کسی کام میں ایک پہلو رحمت کا تقاضا کرتا ہو۔
اور دوسرا غضب کا مستوجب ہو تو اللہ کی رحمت کا معاملہ غضب کے پہلو پر غالب آجاتا ہے۔
(2)
اس کاایک مظہر یہ ہے کہ جب بندہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ بعض نیکیوں کی وجہ سے بعض گناہ فرما معاف دیتا ہے۔
اسی طرح نادانستہ طور پر ہوجانے والے غلط کاموں کو معاف فرمادیتا ہے۔
(3)
انسان خود اپنی بدعملیوں کی وجہ سے اور ان سے توبہ نہ کرنےکی وجہ سے اللہ کےغضب کا مستحق بنتا ہے۔
(4)
سلسلہ نبوت ورسالت کا جاری فرمانا اور کتابیں نازل فرمانا بھی اس کی رحمت کا اظہار ہے۔
اوراس سلسلے کے بند کردینے کے بعد مجددین دین اورداعیان حق کا ظہور و وجود بھی رحمت الٰہی ہی کا مظہر ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 189]
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت اور صفت غضب کا ثبوت ہے اور اللہ تعالی کے ہاتھ مبارک کا ذکر ہے۔
ان تمام پر بلا تشبیہ ایمان لانا ضروری ہے۔
اور ہاتھ کا مطلب قدرت لینا بھی درست نہیں کیونکہ اس طرح دو صفات کو ایک صفت کے معنی میں لینے سے دوسری صفت کا انکار ہوتا ہے۔
اللہ کے دو ہاتھوں کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔
ارشاد ہے: ﴿قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ (ص: 75)
’’فرمایا: اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔‘‘
اور رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں، جو اس کے عرش پر موجود ہے، اس نے لکھا کہ "بے شک میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔" [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 15]
علامہ طیبی فرماتے ہیں: "رحمت کے غالب ہونے میں اشارہ ہے کہ رحمت کے مستحقین بھی تعداد کے لحاظ سے غضب کے مستحقین پر غالب رہیں گے، رحمت ایسے لوگوں پر بھی ہوگی جن سے نیکیوں کا صدور ہی نہیں ہوا۔ برخلاف اس کے غضب کے کہ وہ ان ہی لوگوں پر ہوگا جن سے گناہوں کا صدور ثابت ہوگا۔ "
(فتح الباری: 292/6 - عمدة القاری: 258/12 - ارشاد الساری: 251/5)
رب کریم کی رحمت بہت وسیع ہے، ارشاد فرمایا: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚفَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف: 156)
"میری رحمت نے ہر چیز کو اپنے دامن میں لے رکھا ہے، اور اس کے مستحق وہ لوگ ہیں جو تقوی اور زکوة کی ادائیگی کے ساتھ ہماری نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ "
دوسرے مقام پر فرمایا: إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (الاعراف: 56)
"یقیناً الله کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ "
سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے۔ ایک عورت ان میں سے کسی کو ڈھونڈھتی تھی، جب اس نے ایک بچے کو پایا ان قیدیوں میں سے تو اس کو اٹھایا اور پیٹ سے لگایا اور دودھ پلایا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: "کیا سمجھتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟" ہم نے کہا: نہیں، الله کی قسم وہ کبھی ڈال نہ سکے گی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "البتہ الله تعالیٰ اپنے بندوں پر زیادہ مہربان ہے اس سے جتنی یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے۔" (صحیح مسلم، کتاب التوبة، رقم: 6978)
اس حدیث سے مخلوق کی ابتداء بتانا مقصود ہے، اسی لیے امام بخاری رحمة الله علیہ اس کو «بَابُ مَا جَاءَ فِيْ قَوْلِ اللهِ تَعَالىٰ» «وَهُوَ الَّذِىْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» میں لائے ہیں۔ یعنی "اور الله تعالىٰ نے (سورہ روم میں) جو فرمان ہے اس کی تفسیر کہ الله ہی ہے جس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا، اور وہی پھر دوبارہ (موت کے بعد) زندہ کرے گا اور یہ (دوبارہ زندہ کرنا) تو اس پر اور بھی آسان ہے۔ "
یہ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب سے پہلے ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ﴿انّ الله غفور رحیم﴾ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ انسان پر رحمت ہی کرتا ہے۔
﴿وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ فَنَذَرُ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ [10-يونس:11]
"اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کر دیا کرتا، جس طرح وہ فائدے کے لیے جلدی مچاتے ہیں، تو ان کا وعدہ بھی کا پورا ہو چکا ہوتا ہو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے، ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں "۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا واضح تذکرہ ہے کہ لوگ عذاب میں جلدی بھی کرتے ہیں لیکن اللہ کی رحمت اس کے غضب پر سابق ہوتی ہے۔