حدیث نمبر: 7545
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، قَالَتْ : " فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي وَأَنَا حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ يُبَرِّئُنِي وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى ، وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی` عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کے سلسلہ میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور ان راویوں میں سے ہر ایک نے واقعہ کا ایک ایک حصہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ پھر میں روتے روتے اپنے بستر پر لیٹ گئی اور مجھے یقین تھا کہ جب میں اس تہمت سے بَری ہوں تو اللہ تعالیٰ میری برات کرے گا ، لیکن واللہ ! اس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوں گی جن کی قیامت تک تلاوت کی جائے گی اور میرے خیال میں میری حیثیت اس سے بہت کم تھی کہ اللہ میرے بارے میں پاک کلام نازل فرمائے جس کی تلاوت ہو اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ النور کی ) یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك‏» ” بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی “ پوری دس آیتوں تک ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: 7545
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7545. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے ان پر جب بہتان لگا تو انہوں نے فرمایا: میں اپنے بستر پر لیٹ گئی اور مجھے یقین تھا کہ میں اس تہمت سے بری ہوں اور اللہ تعالیٰ میری براءت ضرور کرے گا لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق قرآنی آیات نازل فرمائے گا جن کی ہمیشہ تلاوت کی جاتی رہے گی۔ میرے نزدیک میری حیثیت اس سے کمتر تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق ایسا کلام نازل فرمائے جس کی تلاوت ہو، آخر کار اللہ تعالیٰ نے میرے متعلق یہ پوری دس آیات نازل فرمائیں: بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے بہتان لگایا وہ تمہی میں سے ایک گروہ ہے۔۔۔۔۔ آخر تک۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7545]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے درج ذیل الفاظ سے عنوان ثابت کیا ہے: ’’میرے بارے میں ایسی وحی نازل ہو گی جس کی تلاوت ہوتی رہے گی۔
‘‘ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے: ’’مجالس ومحاریب میں خوش الحانی سے تلاوت ہوتی رہے گی۔
‘‘ یعنی تلاوت بندوں کا فعل ہے۔
(عمدة القاري: 725/16)

اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت اور متلو میں واضح فرق ہے کیونکہ تلاوت، قاری کا فعل ہے جبکہ انزال وایحاء (وحی کرنا)
اور تکلم اللہ کی صفات ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خود لکھا ہے کہ انزال وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔
(خلق أفعال العباد ص: 86)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7545 سے ماخوذ ہے۔