صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ هَلْ يَلْتَفِتُ لأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ أَوْ يَرَى شَيْئًا أَوْ بُصَاقًا فِي الْقِبْلَةِ: باب: اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے (تو التفات میں کوئی قباحت نہیں)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، قَالَ : " بَيْنَمَا الْمُسْلِمُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ لَهُ الصَّفَّ فَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ فَأَرْخَى السِّتْرَ وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ " .´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دیکھا ۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خوشی سے ) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں ۔ آپ نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ صحابہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا ) نماز ہی چھوڑ دیں گے ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور پردہ ڈال لیا ۔ اسی دن چاشت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کیونکہ اگروہ التفات نہ کرتے تو آپ کا پردہ اٹھانا کیونکر دیکھتے اور ان کا اشارہ کیسے سمجھتے۔
بلکہ خوشی کے مارے حال یہ ہوا کہ قریب تھا کہ وہ نماز کو بھول جائیں اور آنحضرت ﷺ کے دیدار کے لیے دوڑیں۔
اسی حالت کو ان لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مسلمانوں نے یہ قصد کیا کہ وہ فتنے میں پڑ جائیں۔
بہرحال یہ مخصوص حالات ہیں۔
ورنہ عام طور پر نماز میں التفات جائز نہیں، جیسا کہ حدیث سابقہ میں گزرا۔
قرآن مجید میں ارشاد باری ہے: ﴿وقوموا للہ قٰنتین﴾ (البقرة: 238)
یعنی نماز میں اللہ کے لیے دلی توجہ کے ساتھ فرماں بردار بندے بن کر کھڑے ہوا کرو۔
نماز کی روح یہی ہے کہ اللہ کو حاضر ناظر یقین کر کے اس سے دل لگایا جائے۔
آیت شریفہ ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ﴾ (المومنون: 2)
کا یہی تقاضا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ نمازکی حالت میں اگر کوئی نئی خاص بات آجائے تو دوران نماز میں اس کی رعایت کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس میں کوئی ایسا عمل نہ کرنا پڑے جو نماز کے منافی ہو جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے تاکہ خود صف میں شامل ہوجائیں اور آپ کے لیے امامت کی جگہ خالی کردیں، اس طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی التفات کرکے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا،پھر انھوں نے آپ کے اشارے کو بھی ملاحظہ کیا۔
(فتح الباري: 306/2)
بدھ کے دن رسول اللہ ﷺ سیدہ عائشہ ؓ کے گھر تشریف لائے اور بڑے ٹب میں بیٹھ کر پانی کی سات مشکیں سر پر ڈالیں، کچھ سکون ہوا تو مسجد میں آ گئے، نماز پڑھائی اور خطبہ دیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4449)
جمعرات کے دن بیماری نے شدت اختیار کر لی، اسی حالت میں آپ نے فرمایا: ’’لاؤ میں تمھیں کچھ لکھوا دوں تاکہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجاؤ۔
‘‘ اسی روز آپ نے تین وصیتیں فرمائیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4431)
اسی دن آپ نے نماز مغرب پڑھائی جس میں سورۃ المرسلات کی تلاوت فرمائی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4429)
اسی دن نماز عشاء کے لیے آپ نے تین مرتبہ مسجد میں جانے کا ارادہ فرمایا لیکن غسل کرنے کے بعد جب بھی اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو بے ہوش ہو جاتے، بالآخر آپ نے فرمایا: ’’ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 687)
چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کی زندگی میں سترہ نمازیں پڑھائیں۔
ہفتہ یا اتوار کے دن حضرت عباس اور حضرت علی ؓ کے سہارے مسجد میں تشریف لائے جبکہ ظہر کی نماز کھڑی ہوچکی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔
(صحیح البخاري، حدیث: 687)
اگلے دن صبح کی نماز کے وقت پردہ اٹھایا، اس وقت نماز ہورہی تھی۔
تھوڑی دیر تک اس نظارۂ پاک کو ملاحظہ فرمایا جو آپ کی تعلیم کا نتیجہ تھا۔
اس نظارے سے رخ انور پر بشاشت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
آخر کار نزع کی حالت شروع ہوئی۔
پانی کا پیالہ آپ کے سرہانے رکھا ہوا تھا۔
آپ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرۂ مبارک پر پھیر لیتے۔
اس دوران میں زبان مبارک سے فرماتے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، موت میں تلخی ہوا ہی کرتی ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4449)
آخر کار بارہ ربیع الاول 11 ہجری بروز پیر بوقت چاشت جسم اطہر سے روح انور نے پرواز کی۔
اس وقت آپ ﷺ کی عمر 63 سال 4 دن تھی۔
خطبے کے متعلق درج ذیل حدیث ہے: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مرض وفات میں ہماری طرف نکلے، چادر لپیٹے ہوئے اور سر پر کالی پٹی باندھے ہوئے تھے حتی کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ کی حمد وثنا کی اور انصار کے متعلق خطبہ دیا۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی منبر پر آخری مجلس تھی۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3628)
(1)
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات تک سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نماز پڑھانے کے لیے آپ کے جانشین رہے۔
یہی امام بخاری ؒ کا مقصود ہے کہ اہل علم وفضل ہی امامت کے زیادہ حق دار ہیں۔
واضح رہے کہ شیعہ حضرات کا یہ پرو پیگنڈا غلط ہے کہ آخری وقت رسول اللہ ﷺ نے خود برآمد ہوکر ابوبکر صدیق ؓ کو امامت سے معزول کردیا تھا۔
(شرح الکرماني: 5/63)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے رخ زیبا کو ورق قرآن سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یہ بڑی عجیب اور پاکیزہ تشبیہ ہے کیونکہ ورق قرآن پر طلائی کا کام ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ تاباں پر زردئ مرض تھی، اس بنا پر تابانی اور رنگ مرض میں طلا سے اور تقدس اور پاکیزگی میں قرآن پاک سے تشبیہ دی گئی ہے۔
(2)
پیر کو نماز صبح کے وقت وہ پردہ اٹھایا جو بیت عائشہ ؓ اور مسجد طیبہ کے درمیان پڑتا تھا۔
اس وقت نماز ہورہی تھی۔
یہ نماز سیدنا ابو بکر صدیق ؓ ہی نے مکمل فرمائی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4448)
حافظ ابن حجر ؒ نے مغازی موسیٰ بن عقبہ ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت سیدنا ابوبکر ؓ کے پیچھے ادا کی۔
(فتح الباري: 218/2)
ممکن ہے کہ پردے کہ پاس بیٹھ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اقتدا میں وہ رکعت ادا کی ہو۔
اسی دن جب سورج طلوع ہوا تو حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر ؓ آ گئے، ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے مسواک پر نظر ڈالی تو صدیقۂ کائنات نے ان سے لے کر اپنے دانتوں سے مسواک کو نرم کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی طرح استعمال فرمایا۔
پھر اپنے ہاتھ کو بلند کیا اور فرمایا: ’’اے اللہ! مجھے بلند وبالا رفاقت درکار ہے۔
‘‘ اسی وقت ہاتھ لٹک گیا اور آپ نے اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کردی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4449)
إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اس وقت وجہ مبارک ورق قر آن معلوم ہورہا تھا۔
اس کے بعد حضور ﷺ پر دنیا میں کسی دوسری نماز کاقت نہیں آیا۔
اسی موقع پر آپ نے حاضرین کو باربار تاکید فرمائی تھی الصلوٰة الصلوٰة وما ملکت أیمانکم یہی آپ کی آخری وصیت تھی جسے آپ نے کئی بار دہرایا، پھر نزع کا عالم طاری ہوگیا۔
(ﷺ)
1۔
رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری دن سوموارکی نماز فجر کا واقعہ جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
آپ نے جب مسلمانوں کو نماز میں مصروف پایا اور تھوڑی دیر آپ نے نماز باجماعت کی ادائیگی کو ملا خظہ فرمایا۔
تو رخ انوارر پر بشاشت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ نمایاں ہوئی۔
ایک روایت میں ہے کہ اس وقت چہرہ مبارک چمک کی وجہ سے ورق قرآن معلوم ہو رہا تھا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 680)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر اس عالم رنگ وبو میں کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔
اس وقت رسول اللہ ﷺ نے حاضرین کو نمازکی بار بار تائید فرمائی چنانچہ آکی آخری وصیت یہ تھی کہ نمازادا کرتے رہنا اور اپنے زیر دست لوگوں سے حسن سلوک کرنا۔
آپ نے اس وصیت کو بار بار دہرایا۔
2۔
عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس کے بعد آپ پر نزع کا عالم طاری ہو گیا۔
جیسا کہ ایک روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 754)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی حادثے کی وجہ سے دوران نماز میں پیچھے ہٹنے یا آگے بڑھنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر پہلے پیچھے ہٹے، پھر آپ کا اشارہ ملا تو آگے بڑھ کر نماز کو پورا کیا، لیکن یہ عمل کثیر تعداد میں نہیں ہونا چاہیے۔
جیسا کہ حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات نماز پڑھ رہے ہوتے اور دروازہ بند ہوتا میں اسے کھٹکھٹاتی تو آپ چل کر دروارہ کھولتے، پھر اپنی نماز گاہ کی طرف لوٹ جاتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 922)
(فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ)
ہم آپﷺ کو موت تک نہ دیکھ سکے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپﷺ وفات پا چکے ہیں۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا (جب) آپ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے (کھڑے تھے)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا (پھر) آپ اسی دن کے آخری (حصہ میں) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1832]
➋ مومن کے لیے سواموار کی وفات کی خواہش اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کی نشانی ہے۔
➌ ضرورت کے تحت دروازوں پر پردے لٹکائے جا سکتے ہیں۔
➍ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا امامت کے لیے تقرر آپ کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1624]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے اقدس کو ورق سے تشبیہ دی کیونکہ بیماری اور کمزوری کی وجہ سے چہرے پر سرخی کی بجائے زردی اور سفیدی غالب تھی۔
مصحف کا ورق اس لئے فرمایا کہ قرآن مجید کا ورق مومنوں کے دلوں میں محبت، احترام اورعقیدت کا حامل ہوتا ہے۔
اور رسول اللہﷺ کا چہرہ مبارک بھی ان صفات سے متصف تھا۔
(2)
علمائے سیرت کے مشہور قول کے مطابق رسول اللہﷺ کی وفات چاشت (ضحیٰ)
کے وقت یعنی دوپہر سے پہلے ہوئی دیکھئے: (الرحیق المختوم، ص: 630)
رسول اللہﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی میں سترہ نمازیں پڑھائی تھیں۔ (الرحیق ا لمختوم، ص: 627)
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبردست فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ اول بلا فصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بنانا چاہتے تھے، اس لیے بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی اپنے مصلے پر نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ نیز اس پر مسند ابی بکر میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔