صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ ، عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ، وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ " .´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی تواضع اور انکسار پر محمول ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت اس لیے کی کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اپنے رب کے حکم کی بنا پر صبر کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں۔
‘‘ (القلم 68/48)
تاکہ اس آیت کے نزول کی وجہ سے حضرت یونس علیہ السلام میں کسی قسم کی ذلت اور کمزوری کاوہم نہ کیا جائے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا کلام بیان کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں فرق ثابت ہوا جیسا کہ تلاوت اور متلو میں فرق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان مخلوق اور اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے اور روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔
واللہ أعلم۔
اس حدیث کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ امت کا کوئی فرد اپنے آپ کو کسی بھی نبی سے بہتر نہ کہے اس کے لیے قطعاً یہ جائز نہیں ہے نیز اس کا دوسرا مفہوم بیان کیا جا تا ہے کہ کسی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یعنی رسول اللہ ﷺ یونس بن متی سے بہتر ہوں لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو افضل الانبیاء ہیں پھر آپ نے یہ خود بھی کہا ہے کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس میں میں فخر نہیں کرتا ہوں محدثین نے اس اشکال کے درج ذیل جوابات دیے ہیں۔
۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ممانعت افضیلت کے علم سے پہلے کا ہے۔
۔
آپ نے یہ ارشاد تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا ہے۔
۔
اس اندازسے آپ نے امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ مچھلی کے واقعے سے متاثر ہو کر کوئی شخص کسی نبی کے حق میں گستاخی نہ کرے۔
واللہ اعلم۔
اللہ تعالی نے اس کی برکت سےان کومچھلی کےپیٹ سےزندہ باہر نکال لیا۔
اس آیت کریمہ کے ورد میں اب بھی یہی تاثیرہے۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس ؑ کا قصہ سن کر کوئی ان کی تحقیر و تنقیص نہ کرے اور آپ کا یہ ارشاد عجز و انکسار اور تواضع کے طور پر ہے بصورت دیگر آپ تمام انبیاء ؑ سے افضل ہیں۔
بعض مؤرخین نے متی کو حضرت یونس ؑ کی والدہ کا نام بتایا ہے۔
امام بخاری ؒنے اس کی تردید فرمائی کہ متی ان کے والد کا نام ہے والدہ کا نہیں۔
(تکملہ ج 5 ص 35)
۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4669]
کسی بندے کو لائق نہیں ان الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ نبی ؐ کے علاوہ کسی اور کو اس طرح کہنا جائز نہیں اور اگر نبی ؐ خود بھی اس میں شامل ہوں، جیسے کہ درج ذیل روایت میں ہے تو اس میں آپ کی ازحد تواضع کا اظہار ہے۔