حدیث نمبر: 7539
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ ، عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ، وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: 7539
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3395 | صحيح البخاري: 3413 | صحيح البخاري: 4630 | صحيح مسلم: 2377 | سنن ابي داود: 4669

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7539. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ یوں کہے: آپ سیدنا یونس بن متی سے بہتر ہیں۔ اور آپ نے یونس ؑ کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7539]
حدیث حاشیہ: اللہ سے آنحضرت ﷺ کا خود براہ راست روایت کرنا یہی باب سے مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7539 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7539. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ یوں کہے: آپ سیدنا یونس بن متی سے بہتر ہیں۔ اور آپ نے یونس ؑ کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7539]
حدیث حاشیہ:

حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی تواضع اور انکسار پر محمول ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت اس لیے کی کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اپنے رب کے حکم کی بنا پر صبر کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں۔
‘‘ (القلم 68/48)
تاکہ اس آیت کے نزول کی وجہ سے حضرت یونس علیہ السلام میں کسی قسم کی ذلت اور کمزوری کاوہم نہ کیا جائے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا کلام بیان کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں فرق ثابت ہوا جیسا کہ تلاوت اور متلو میں فرق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان مخلوق اور اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے اور روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7539 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4630 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4630. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’کسی بندے کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4630]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ امت کا کوئی فرد اپنے آپ کو کسی بھی نبی سے بہتر نہ کہے اس کے لیے قطعاً یہ جائز نہیں ہے نیز اس کا دوسرا مفہوم بیان کیا جا تا ہے کہ کسی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یعنی رسول اللہ ﷺ یونس بن متی سے بہتر ہوں لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو افضل الانبیاء ہیں پھر آپ نے یہ خود بھی کہا ہے کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس میں میں فخر نہیں کرتا ہوں محدثین نے اس اشکال کے درج ذیل جوابات دیے ہیں۔

۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ممانعت افضیلت کے علم سے پہلے کا ہے۔

۔
آپ نے یہ ارشاد تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا ہے۔

۔
اس اندازسے آپ نے امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ مچھلی کے واقعے سے متاثر ہو کر کوئی شخص کسی نبی کے حق میں گستاخی نہ کرے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4630 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3413 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3413. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ وہ کہے: میں (رسول اللہ ﷺ) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔‘‘ آپ نے ان کو باپ کی طرف منسوب کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3413]
حدیث حاشیہ: حضرت یونس ؑ کوقرآن مجید نے ذوالنون یعنی مچھلی والا بھی کہاہے جنہوں نے مچھلی کےپیٹ میں جاکر آیت کریمہ ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ کا ورد کیا تھا۔
اللہ تعالی نے اس کی برکت سےان کومچھلی کےپیٹ سےزندہ باہر نکال لیا۔
اس آیت کریمہ کے ورد میں اب بھی یہی تاثیرہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3413 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3413 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3413. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ وہ کہے: میں (رسول اللہ ﷺ) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔‘‘ آپ نے ان کو باپ کی طرف منسوب کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3413]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ ﷺ نے یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس ؑ کا قصہ سن کر کوئی ان کی تحقیر و تنقیص نہ کرے اور آپ کا یہ ارشاد عجز و انکسار اور تواضع کے طور پر ہے بصورت دیگر آپ تمام انبیاء ؑ سے افضل ہیں۔
بعض مؤرخین نے متی کو حضرت یونس ؑ کی والدہ کا نام بتایا ہے۔
امام بخاری ؒنے اس کی تردید فرمائی کہ متی ان کے والد کا نام ہے والدہ کا نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3413 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2377 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:" کسی بندے کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ یہ کہے،میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔"آپ نے ان کی نسبت،اس کے باپ کی طرف کی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6160]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، متی حضرت یونس علیہ السلام کے باپ کا نام ہے، ماں کا نام نہیں ہے، جبکہ وہب بن منبہ، امام طبری اور ابن اثیر، اس کو ماں کا نام قرار دیتے ہیں۔
(تکملہ ج 5 ص 35)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2377 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4669 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4669]
فوائد ومسائل:
کسی بندے کو لائق نہیں ان الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ نبی ؐ کے علاوہ کسی اور کو اس طرح کہنا جائز نہیں اور اگر نبی ؐ خود بھی اس میں شامل ہوں، جیسے کہ درج ذیل روایت میں ہے تو اس میں آپ کی ازحد تواضع کا اظہار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4669 سے ماخوذ ہے۔