صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ: باب: اللہ تعالیٰ کا جنت والوں سے باتیں کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُونَ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ ؟ ، فَيَقُولُونَ : وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ ، وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، فَيَقُولُ : أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ ، فَيَقُولُ : أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا : اے جنت والو ! وہ بولیں گے حاضر تیری خدمت کے لیے مستعد ، ساری بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : کیا تم خوش ہو ؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ہم خوش ہوں گے ، اے رب ! اور تو نے ہمیں وہ چیزیں عطا کی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں عطا کیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل انعام نہ دوں ؟ جنتی پوچھیں گے : اے رب ! اس سے افضل کیا چیز ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں اپنی خوشی تم پر اتارتا ہوں اور اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
غلام کے لیے بڑھ کرخوشی کسی چیز میں نہیں ہو سکتی کہ آقا راضی رہے ورضوان من اللہ أکبر کا یہی مطلب ہے۔
1۔
جنت کی نعمتیں بے شمار اور لازوال ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی۔
غلام کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا آقا ہمیشہ کے لیے اس پر راضی رہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور اہل ایمان خواتین سے ایسے باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔
ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور سدا بہار باغات میں پاکیزہ قیام گاہوں کا بھی (وعدہ کر رکھا ہے)
اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی تو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی۔
یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
" (التوبة: 72)
2۔
اس حدیث میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے گفتگو کرے گا۔
اہل جنت اس سے بابرکت کلام سنیں گے۔
اور سوال و جواب کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو گا۔
وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوں گے۔
یہ گفتگو بار بار ہو گی۔
ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی مشیت سے متعلق ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے اور جس سے چاہے ہم کلام ہو سکتا ہے۔
اس کا کلام آواز حروف پر مشتمل ہے جسے سنا اور سمجھا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو اس نعمت سے سر فراز فرمائے۔
آمین۔
3۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی اہل جنت سے مذکورہ گفتگو کسی خاص طبقے سے نہیں بلکہ عام اہل جنت سے ہوگی اور اللہ تعالیٰ کئی مرتبہ اہل جنت کو شرف ہم کلامی سے سرفراز کرے گا۔
آمین ثم آمین۔
(1)
جنت اور اس کی تمام نعمتیں عطا فرمانے کے بعد رب کریم کا اپنے بندوں سے پوچھنا کہ ’’تم راضی اور مطمئن ہو‘‘ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے، پھر دائمی رضا کا تحفہ اور کبھی ناراض نہ ہونے کا اعلان کتنا بڑا انعام اور احسان ہے۔
یقیناً اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت اور اس کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالاتر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کی طرف سے تھوڑی سی رضا اور خوشنودی سب سے بڑی (نعمت)
ہے۔
‘‘ (التوبة: 72/9) (2)
اہل جنت کے لیے ایک دوسرا اعلان بھی ہو گا جو اس سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ اس کے علاوہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اہل جنت، جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک مزید چیز عطا کروں؟ اہل جنت عرض کریں گے: اے اللہ! تو نے ہمارے چہرے روشن کیے اور دوزخ سے بچا کر ہمیں جنت میں داخل کیا، اب اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندوں کے اس جواب کے بعد یکایک حجاب اٹھ جائے گا تو وہ اپنے پروردگار کا دیدار کر رہے ہوں گے، پھر انہیں محسوس ہو گا کہ جو کچھ اب تک انہیں ملا تھا، اس میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری چیز ان کے لیے یہی دیدار الٰہی ہے۔
‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت تلاوت فرمائی: ’’جن لوگوں نے (اس دنیا میں)
نیکی اور بندگی والی اچھی زندگی گزاری ان کے لیے اچھی جگہ (جنت)
ہے اور (اس پر)
مزید ایک نعمت (دیدار الٰہی)
ہو گی۔
‘‘ (یونس: 10/26، و صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 449، 450 (181)
اللہ کی رضا اور خوشنودی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
''اور لذت و مسرت میں اعلان رضا سے بڑھ کر دیدار الٰہی ہے۔