صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلاَئِكَةُ يَشْهَدُونَ} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) ارشاد ”اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو جان کر اتارا ہے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ ، سَرِيعَ الْحِسَابِ ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ ، وَزَلْزِلْ بِهِمْ " ، زَادَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا ” اے اللہ ! کتاب قرآن کے نازل کرنے والے ، جلد حساب لینے والے ، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے ۔ “ حمیدی نے اسے یوں روایت کیا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سند مذکورہ میں سفیان کے سماع کی ابن ابی خالد سے اور ابن ابی خالد کے سماع کی عبداللہ بن ابی وافیٰ سے صراحت ہے۔
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صفت کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ’’قرآن مجید کو نازل کرنے والے۔
‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ سے ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں بلکہ اس کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صفت الٰہی کے حوالے سے دعا کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ صفت مبنی برحقیقت ہے۔
چونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو فتنہ خلق قرآن سے پالا پڑا تھا، اس لیے متعدد دلائل سے ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں بلکہ اس کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی پیش کردہ حدیث میں عنعنہ تھا، اس لیے انھوں نے امام حمیدی سے نقل کیا کہ حدیث کی سند سماع پر مبنی ہے۔
1۔
کفار عرب نے متحدہ محاذ بنا کر مدینہ طیبہ پرحملہ کیا تھا مگررسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملادیا اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائی۔
2۔
اس دعا: (اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ)
کا مصیبت وپریشانی کے وقت پڑھنا بصد خیروبرکت ہے، اس کی تشریح حدیث: 2933 کے تحت گزرچکی ہے۔
اس کو جنگ احزاب یا جنگ خندق کہا گیا ہے۔
اللہ نے ان کی ایسی کمر توڑی کہ بعد میں جنگ کا یہ سلسلہ ہی ختم ہو گیا۔
1۔
اس روایت میں کفار کے لیے شکست اور ان کے میدان سے بھاگنے کی بددعا کا ذکر ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺنے ان کی ہلاکت کی بددعا کرنے کے بجائے انھیں شکست اور زلزلے سے دوچار ہونے کی بددعا دی کیونکہ شکست کے بعد وہ بالکل ختم نہیں ہوں گے پھر عین ممکن ہے کہ یہ خود یا ان کی اولاد کی اولاد میں سے کوئی مسلمان ہو جائے اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کر کے اخروی نجات کا حق دار بن جائے۔
ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (غزوہ احزاب میں) کفار کے لشکروں پر بد دعا کرتے ہوئے سنا، آپ نے ان الفاظ میں بد دعا کی «اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم» ” کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1678]
وضاحت: 1؎: کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑدے۔
اس ضمن میں اور بھی بہت ساری دعائیں احادیث کی کتب میں موجودہیں، بعض دعائیں امام نووی نے اپنی کتاب ’’الأذکار‘‘ میں جمع کردی ہیں۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کفار کے) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: ” اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے “ (کہ وہ پریشان و بے قرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2796]
فوائد و مسائل:
(1)
جماعتوں سے مراد مختلف قبائل کے وہ جنگجو دستے ہیں جو غزوہ احزاب کے موقع پر متحد ہوکر مدینے میں حملہ آور ہوئے تھے لیکن خندق کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔
(2)
ہر مشکل کے موقع پر اللہ ہی سے دعا کرنا نبیﷺ کا طریقہ اور توحید کا تقاضہ ہے۔
(3)
دعا میں موقع محل کی مناسبت سے اللہ تعالی کی صفات کا ذکر کرنا مسنون ہے۔