حدیث نمبر: 7484
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جس قدر مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی اور ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: 7484
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7484. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے جس قدر سیدہ خدیجہ‬ ؓ پ‬ر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نےآپ ﷺ کو فرمایا تھا کہ وہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7484]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سےامام بخاری  نےیہ ثابت کیا کہ اللہ کا کلام صرف نفسی اور قدیم نہیں ہے بلکہ وقتاً فوقتًا وہ کلام کرتا رہتا ہے۔
چنانچہ خدیجہ ؓ کوبشارت دینے کےلیے اس نے کلام کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7484 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7484. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے جس قدر سیدہ خدیجہ‬ ؓ پ‬ر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نےآپ ﷺ کو فرمایا تھا کہ وہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7484]
حدیث حاشیہ:

دوسری روایات میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی غیرت کا سبب بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں اکثر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تذکرہ کرتے رہتے تھے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری ذبح کرتے، پھر ان کی سہیلیوں کے ہاں کافی مقدار میں گوشت بھیجتے تھے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3816)

اس حدیث سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام نفسی نہیں بلکہ حروف وآواز پر مشتمل ہے اور قدیم ہی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً وہ جب چاہتا ہے کلام کرتا رہتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نےحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بشارت دینے کے لیے کلام فرمایا۔
اس حدیث میں لفظ "أمر" آیا ہے اور امر کلام سے ہوتا ہے۔
علماء نے لکھا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے کلام کی نفی کی اس نے گویا رسالت کی نفی کی ہے کیونکہ رسالت مامورات اور منہیات پر مشتمل ہوتی ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 328/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7484 سے ماخوذ ہے۔