صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ: باب: مشیت اور ارادہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " حَاصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ ، قَالَ : فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا ، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَاتٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے ابوالعاس ( سائب بن فروخ ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے کہا` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا ، اس کو فتح نہیں کیا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے ، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں ، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو ، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن ( قلع فتح نہیں ہوا ) مسلمان زخمی ہوئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے ، اس پر مسلمان خوش ہوئے ، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔
چونکہ وہ بڑے نشانہ باز اور تیر انداز تھے، اس لیے اس قلعے کو فتح کرنا مشکل تھا۔
وہاں لمبا عرصہ ٹھہرنے کی ضرورت تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر شفقت فرماتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کل مدینہ طیبہ لوٹ جائیں گے لیکن مسلمانوں کو یہ پروگرام پسند نہ آیا اور انھوں نے اسے فتح کرنے کا عزم کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تمہارا اسے فتح کرنے کا پروگرام ہے تو صبح جنگ کا آغاز کردو۔
‘‘ چنانچہ جنگ شروع کر دی گئی۔
مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچا اور انھیں کاری زخم لگے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو پھر فرمایا: ’’ان شاء اللہ ہم کل واپس لوٹ جائیں گے۔
‘‘ اس عزم پر مسلمان بہت خوش ہوئے تب انھیں پتا چلا کہ خیروبرکت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرنے میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عزم کی تبدیلی پر مسکرا دیے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ لڑنے پر آمادہ تھے اور آج واپسی کے لیے خوش ہیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو بیان کیا ہے کہ پہلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا عزم کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا اور اسکے اسباب مہیا نہ فرمائے۔
اگلے دن پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ لوٹ جانے کا عزم کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھا، اب یہ پروگرام اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسباب اور ذرائع مہیا کر دیے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی مشیت کسی کو محتاج نہیں، وہ تمام جہان میں کارفرما ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کر گزرتا ہے وہ بے نیاز اور بے پروا ہے، اس سلسلے میں کسی کا محتاج نہیں۔
بہرحال ہم اس بات کے پابند ہیں کہ اپنے آئندہ کے پروگرام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وابستہ کریں۔
اس میں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کامیابی یا ناکامی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو رب العالمین ہے۔
‘‘ (التکویر 29)
3۔
مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کی دو قسمیں ہیں:۔
ارادہ کونیہ۔
۔
ارادہ شرعیہ۔
ارادہ کونیہ جو مشیت کے معنی میں ہوجیسا کہ قرآن میں ہے: ’’اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہو کہ تمھیں گمراہ کر دے۔
‘‘ (ھود 34)
ارادہ شرعیہ جو محبت کے معنی میں ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ توچاہتا ہے کہ تم پر توجہ دے۔
‘‘ (النساء 27/4)
لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی چیز کو پسند فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ چیز وقوع پذیر بھی ہو جائے، البتہ جب ارادہ کونیہ فرماتا ہے، یعنی کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ چیز فوراً پیدا ہو جاتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بس اس کا حکم، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے یہ (ہوتا ہے)
کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتی ہے۔
‘‘ (یٰس 82)
البتہ شرعی ارادے میں اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری نہیں کیونکہ محبوب چیز کبھی وقوع پذیر ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم۔
آنحضرت ﷺ اٹھارہ دن یا پچیس دن یا اور کم وبیش اس کا محاصرہ کئے رہے۔
کافر قلعہ کے اندر سے مسلمانوں پر تیر برساتے رہے، لوہے کے ٹکڑے گرم کر کرکے پھینکتے جس سے کئی مسلمان شہید ہوگئے۔
آپ نے نوفل بن معاویہ ؓ سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا یہ لوگ لومڑی کی طرح ہیں جو اپنے بل میں گھس گئی ہے۔
اگر آپ یہاں ٹھہرے رہیں گے تو لومڑی پکڑ پائیں گے اگر چھوڑ دیں گے تو لومڑی آپ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتی۔
(وحیدی)
1۔
رسول اللہ ﷺ نے ہوازن سے حاصل شدہ مال غنیمت جعرانہ میں رکھا اور خود طائف کا محاصرہ کر لیا۔
لیکن اہل قلعہ نے وہاں اتنا سامان جمع کر رکھا تھا جو انھیں ایک سال کے لیے کافی تھا انھوں نے مسلمانوں پر تیروں کے ساتھ گرم سلاحیں باندھ کر پھینکیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن شیبہ کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے۔
کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ کیا تو صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ثقیف کے تیروں نےہمیں جلا دیا ہے، آپ ان پر بددعا فرمائیں تو آپ ﷺ نے دعا کی: "اے اللہ!ثقیف کو ہدایت دے۔
" (المصنف لابن أبي شیبة: 108/11)
پھر آپ نے نوفل بن معاویہ ؓ سے مشورہ کیا تو انھوں نے عرض کی کہ یہ لوگ لومڑی کی طرح اپنے بل میں گھس گئے ہیں اگر آپ یہاں ٹھہریں گے تو ان پر قابو پانا ممکن ہے اور چھوڑنے کی صورت میں وہ آپ کا نقصان نہیں کر سکیں گے۔
ان کے مشورے کے بعد آپ نے وہاں سے کوچ کا پروگرام بنایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا جیسا کہ حدیث میں ہے لڑائی شروع ہوئی تو مسلمان نیچے سے تیر پھینکتے تو نشانہ خطا جاتا اور دشمن اوپر سے تیر پھینکتے تو نشانہ خطانہ جاتا اب مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ ان کا واپس جانا ہی بہتر ہےاس لیے جب دوسرے روز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کل ہم واپس جائیں گے تو وہ خوش ہو گئے کیونکہ اوپر سے آنے والے تیروں سے بچنا بہت مشکل تھا۔
'' (فتح الباري: 56/8)