صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ: باب: مشیت اور ارادہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ ، فَنَزَعْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَنْزِعَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ " .´ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل اللحمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا ۔ پھر میں نے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں سے پانی نکالا ۔ اس کے بعد ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے بھی ایک دو ڈول پانی نکالا البتہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ انہیں معاف کرے ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا ۔ میں نے کسی قوی و بہادر کو اس طرح ڈول پر ڈول نکالتے نہیں دیکھا ، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کے چاروں طرف مویشیوں کے لیے باڑیں بنا لیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
ڈول کھینچنے کی تعبیر امور خلافت کو انجام دینے سے ہے۔
عہدصدیقی بھی کامیاب رہا مگر عہد فاروقی میں اسلام کوجو وسعت ہوئی اور امر خلافت مستحکم ہوا اور ظاہر ہے۔
اسی پراشاد ہے۔
1۔
ابن ابی قحافہ سے مراد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
انھوں نے دو ڈول نکالے۔
ڈول نکالنے کی تعبیر امور خلافت انجام دینے سے ہے۔
حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب کمزوری سے مراد مال غنیمت کی کمی ہے کیونکہ ان کے دور میں کچھ لوگ مرتد ہوگئے تھے۔
آپ انھیں دین اسلام کی طرف واپس لانے کے لیے ان کی سرکوبی میں لگے رہے۔
یہ عمل فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال غنیمت سے کہیں بڑھ کر درجہ رکھتا ہے۔
چونکہ ارتداد کا عمل ان کے دور حکومت میں ہوا تھا، اس لے مذکورہ کمزوری کو ان کی طرف منسوب کیا گیا، پھر اسے معاف کر دیا گیا کیونکہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں اسلام کی طرف واپس لانے میں پوری توانائیاں صرف کر دیں۔
2۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس قدر طاقت اور مہارت سے ڈول کھینچے یہ بھی ان کے کامیاب دورحکومت کی طرف اشارہ ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پانی کھینچا اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے منسلک کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے کوئی چیز بھی باہر نہیں۔
انسان کی اپنی چاہت بھی ہوتی ہے لیکن وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
‘‘ (الدھر 30)
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی چاہت ہی سب کچھ نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی چاہت شامل حال نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی چاہت اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد اس کی حکمت اور وسیع علم ہے۔
آنحضرت ﷺ کو خواب میں یہ سارے حالات دکھلائے گئے۔
1۔
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمزوری معاف فرمائے۔
‘‘ اس کمزوری سے حضرت ابو بکر ؓ کے فضائل میں کوئی نقص لازم نہیں آتا کیونکہ ان کی مدت خلافت ہی دوسال تھی۔
دوسالوں میں فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا اور مانعین زکاۃ نے الگ پریشان کیا۔
اگر ایسے حالات میں حضرت عمر ؓ جیسے سخت اور طاقت ور بھی ہوتے تو حالات کا مقابلہ نہ کر سکے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے عربوں کے تکیہ کلام کے مطابق گفتگو فرمائی۔
ہمارے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ اس میں حضرت ابو بکر ؓ کو جو رسول اللہ ﷺ سے نسبت اتحادی پیدا ہوئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے۔
3۔
اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرے ان کلمات سے انھیں قرب اجل کی خبر دی گئی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾میں قرب وفات کی خبر دی گئی تھی۔
ان معانی کی وجہ سے امام بخاری ؒ اس روایت کو مناقب ابی بکر ؓ میں لائے ہیں رسول اللہ ﷺ سے نسبت اتحادی بڑی منقبت اور کیا ہو سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اہل تعبیر کا کہنا ہے کہ اگر انسان خواب میں چت لیٹا ہے تو اس کی تعبیر اس کے معاملات کی مضبوطی ہے۔
نیز دنیا اس کے ہاتھ میں ہو گی کیونکہ سب سے قوی اور مضبوط سہارا زمین پر ٹیک لگانا ہے اور اگر منہ کے بل لیٹ کر آرام کرتا ہے تو معاملہ بر عکس ہوگا کیونکہ اس طرح لپیٹنے والا کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہو رہا ہے۔
(فتح الباري: 518/12)
2۔
بہرحال یہ حضرات قابل تعریف ہیں۔
جو خواب میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام پہنچانے کی فکر میں ہیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں بزرگ کتنے خوش نصیب ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام دینے کے صلے میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں قیامت تک محو استرحت ہیں۔
1۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حکومت سنبھالی تو انھیں کئی قسم کے فتنوں کا سامنا کرنا پڑا فتنہ مانعین زکاۃ فتنہ ارتداد اور فتنہ ختم نبوت ان میں برسر فہرست تھے۔
آپ ان کی سر کوبی کے لیے سر گرم رہے رفاہی اور سماجی کاموں کے لیے آپ کو وقت نہ مل سکا اور نہ آپ کے دور خلافت میں فتوحات ہی کا سلسلہ جاری ہوا۔
2۔
حدیث میں جس کمزوری کا ذکر ہے۔
اس سے مراد مدت خلافت کی کمی ہے۔
اس میں آپ کی مذمت یا آپ کو نیچا دکھانا۔
مقصود نہیں بلکہ حقیقت حال کو ظاہر کیا گیا ہے 3۔
"اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
"یہ کلمات بھی عرب کے ہاں رائج اسلوب کے پیش نظر استعمال ہوئے ہیں۔
ایک دوسری روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
اس میں ایک دوسرا خواب بیان ہواہے۔
حضرت سمرہ جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے خواب میں آسمان سے پانی کا ایک ڈول اترتے دیکھا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور انھوں نے اسے اس کے دونوں کناروں سے پکڑا اور اس سے تھوڑا سا پانی پیا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انھوں نے اسے اس کے دونوں کناروں سے پکڑا اور پیا اور خوب سیر ہو کر اس سے پانی پیا۔
ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیٹ بھر کر پانی پیا۔
پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انھوں نے اس کے دونوں کناروں سے پکڑا تو وہ (ڈول)
ہلا اور اس کے کچھ چھینٹےبھی ان پر پڑے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4637 و مسند أحمد: 21/5)
(1)
قليب: کچا کنواں۔
(2)
دلو: ڈول۔
(3)
ذنوب: بھرا ہوا ڈول۔
(4)
غرب: بڑا ڈول۔
(5)
عبقري: کر گزرنے والا، غیر معمولی صلاحیت کا مالک، یکتا و یگانہ۔
(6)
عطن: پانی پلانے کے بعد اونٹ بٹھانے کی جگہ۔
فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقتدار اور دور حکومت کو ایک کنویں سے تشبیہ دی ہے اور حکمران کو پانی پلانے والے سے جس سے معلوم ہوا، حکمران کا کام لوگوں کے مفادات اور مصالح کا تحفظ اور ان کی ضروریات زندگی فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، حضرت ابوبکر کی خلافت کی مدت صرف دو سال اور چند ماہ تھی اور اس میں بھی کافی وقت فتنہ ارتداد کی سرکوبی میں لگ گیا، اس طرح ابوبکر نے ہر قسم کی شورشوں کی سازشوں کا قلع قمع کر کے، حضرت عمر کے لیے امن و سکون سے حکومت کرنے کا موقع پیدا کر دیا اور ان کے دور میں فتوحات کے سیل رواں کے لیے بنیاد فراہم کر دی، اس لیے حضرت عمر کے دور میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی اور اسلامی سلطنت بہت وسعت اختیار کر گئی، حضرت ابوبکر کے دور میں شورشوں اور سازشوں کو فرو کرنے پر وقت لگ گیا اور اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع نہ ہو سکا اور مسلمانوں کے معاملات پر حضرت عمر کے دور کی طرح توجہ نہ دی جا سکی، اس کو ضعف سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن اس میں ابوبکر کی کوئی کوتاہی کا دخل نہیں ہے اور والله يغفر له کا مقصد ان کی کوتاہی کی نشاندہی نہیں ہے، بلکہ یہ تو مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا، جس کو کلام کا حسن خیال کیا جاتا تھا اور اس میں حضرت عمر کے دور کی وسعت کی طرف اشارہ بھی ہے، کہ اس میں لوگوں کو خوب خوشحالی اور فراوانی میسر آئے گی اور مسلمانوں کے لیے آسائشیں اور سہولتیں پیدا ہوں گی اور آپ کی پیشن گوئی کے مطابق، آپ کے بعد تھوڑے عرصہ کے لیے ابوبکر آپ کے خلیفہ بنے، ان کے بعد ایک طویل عرصہ کے لیے حضرت عمر خلیفہ بنے اور انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بھرپور خدمت کی اور ان کو خوب خوب فائدہ پہنچایا۔
ليروحني: تاکہ دنیا کے مصائب و مشکلات سے نکل کر میں آخرت کے راحت و سکون کو حاصل کر سکوں، اس میں بھی خواب میں آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور خلافت کا مشاہدہ کروایا گیا، جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ابوبکر اور عمر آپ کے صحیح جانشین تھے اور انہوں نے خلافت پر نعوذ باللہ غاصبانہ قبضہ نہیں جمایا تھا اور انہوں نے خلافت کا حق صحیح طور پر ادا کیا۔