صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ} : باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ والصافات میں) کہ ”ہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے باب میں یہ فرما چکے ہیں کہ ایک روز ان کی مدد ہو گی اور ہمارا ہی لشکر غالب ہو گا“۔
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ : كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمر بن زر نے بیان کیا ، کہا ہم نے اپنے والد ذر بن عبداللہ سے سنا ، وہ سعید بن جبیر سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے جبرائیل ! آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ آتے رہتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربك له ما بين أيدينا وما خلفنا» ” اور ہم نازل نہیں ہوتے لیکن آپ کے رب کے حکم سے ، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے “ الآیہ ۔ بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی جواب آیت میں اترا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
البتہ یہ صحیح ہے کہ اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے بلکہ اس کی ذات کی طرح غیر مخلوق ہے۔
باقی اس میں آواز ہے، حروف ہیں جس لغت میں منظور ہوتا ہے اللہ اس میں کلام کرتا ہے۔
اہلحدیث کا یہی اعتقاد ہے اور جن متکمین نے اس کے خلاف اعتقاد قائم کئے ہیں وہ خو د بھی بہک گئے۔
دوسروں کو بھی بہکا گئے۔
ضلوا فأضلوا۔
1۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات و ظروف کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام کی شدید ضرورت تھی۔
جب حضرت جبریل علیہ السلام کافی دیر بعد متعلقہ ہدایات لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے کہا: تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ دفعہ کیوں نہیں آتے؟ تو اس وقت انھوں نے وضاحت فرمائی کہ ہم کوئی باختیار مخلوق نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بندے ہیں جب ہمیں حکم ملتا ہے حاضر ہو جاتے ہیں اس دیر میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلحتیں ہوتی ہیں۔
2۔
حدیث میں رب کے حکم سے مراد اس کا اذن ہے جسے کلام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور یہ کلام باعتبار اصل صفت ذاتیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متکلم ہے اور ہمیشہ متکلم رہے گا۔
لیکن باعتبار متعلق صفت فعلیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا اس کی مشیت کے تابع ہے جب چاہے جو چاہے کلامکرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتاہے تو اتنا ہی کہتا ہے کہ "ہو جا"تو وہ (اسی وقت)
ہو جاتی ہے۔
‘‘ (یٰس36۔
82)
اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے البتہ تعلق کے اعتبار سے حادث ہے کیونکہ فرشتوں کو وقتاً فوقتاً ارشادات و احکام صادر ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام امین کو زمین پر اترنے کا حکم دیتا ہے تو وہ تووہ اتر پڑتے ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اترنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیرو برکت کا پیش خیمہ ہوتا ہے یہی وہ فیصلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء اور اہل ایمان کے لیے پہلے سے کیا ہوا ہے واللہ أعلم۔
1۔
ہم فرشتے خود مختار مخلوق نہیں بلکہ آپ کے پروردگار کے ماتحت ہیں جب حکم ہوتا ہے اس وقت اترتےہیں۔
2۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض تفسیری اجزاء ہیں جن کا علم صاحب وحی کے بتائے بغیر نہیں ہو سکتا کیونکہ بعض آیات سیاق وسباق کی محتاج ہوتی ہیں اور صرف حدیث ہی میں اس کا بیان ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس جنت کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انھیں بناتے ہیں جو پرہیز گار ہوتے ہیں اور ہم (فرشتے)
نازل نہیں ہوتے جب تک آپ کے رب کا حکم نہ ہو۔
‘‘ (مریم 19۔
63۔
64)
پہلی آیت میں متکلم اللہ تعالیٰ ہے دوسری آیت جو اس کے بالکل متصل ہے عبارت کے تسلسل کے پیش نظر دوسری آیت کا متکلم بھی اللہ تعالیٰ ہی ہونا چاہیے لیکن اس صورت میں لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی کسی دوسرے کے حکم سے نازل ہوتا ہے لیکن یہ مفہوم بالکل غیر اسلامی ہے اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ دوسری آیت فرشتوں کا جواب ہے جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیا تھا جب آپ نے ان سے یہ پوچھا تھا کہ تم بار بار کیوں نہیں آتے؟ فرشتوں کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔
اللہ کے حکم کے بغیر پر بھی نہیں ہلا سکتے ہمارا چڑھنا اترنا اللہ کے حکم کے تابع ہے وہی جانتا ہے کہ کس فرشتے کو کس پیغمبر کے پاس کس وقت بھیجنا ہے مقرب ترین فرشتے اور معزز ترین پیغمبر کو یہ بھی اختیار نہیں کہ جب چاہے کہیں چلا جائے جا کسی کو اپنے پاس بلالے۔
الغرض! ہمارا جلد یا دیر سے آنا اس کی حکمت کے تابع ہے۔
1۔
قرآن کریم کے سیاق وسباق سے اس آیت کا کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آسکتا۔
رسول اللہ ﷺ کی وضاحت سے یہ عقدہ حل ہواکہ یہ حضرت جبریل ؑ کا مقولہ ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ احادیث سے بالا قرآن فہمی کا دعویٰ کرنا ضلالت وگمراہی کے علاوہ کچھ نہیں۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ فرشتے ایک صاحب شعورمخلوق ہیں اور وہ اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
امام بخاری ؒ نے ان کا وجود ثابت کرنے کے لیے اس حدیث کو پیش کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: ” جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» ” تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں “ (مریم: ۶۴)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3158]
وضاحت:
1؎:
تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں۔
(مریم: 64)