صحيح البخاري
كتاب الأذان (صفة الصلوة)— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: باب: اس بارے میں کہ تکبیر تحریمہ کے بعد کیا پڑھا جائے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : هُنَيَّةً ، فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ ، قَالَ : أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب ، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے ۔ اے اللہ ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے ۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو ڈال ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: هُنَيَّةً، فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ، قَالَ: أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ.»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 744]
«اللهم باعد بيني» الخ پڑھنا زیادہ صحیح، حنفی مذہب کے فقہاء نے بھی اس کی تائید کی ہے، چنانچہ شرح وقایہ اردو [ص 94] میں حنفی مذہب کے زبردست مجتہد، محقق اور موید علامہ کمال ابن الہمام رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بجائے «سبحانك اللهم» کے «اللهم باعد بيني» الخ پڑھنا زیادہ تر صحیح ہے۔“ [فتح القدير 289/1]
مگراس روایت کی سند میں ضعف ہے، بہرحال اسے بھی پڑھا جاسکتاہے۔
مگرترجیح اسی کو حاصل ہے، اور اہل حدیث کا یہی معمول ہے۔
(1)
اسے دعائے استفتاح کہا جاتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ تکبیر تحریمہ اور فاتحہ کے درمیان کچھ پڑا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دیگر ادعیۂ افتتاح بھی احادیث میں وارد ہیں مگر مذکورہ دعا صحیح ترین ہے اور اسے آہستہ پڑھنا چاہیے۔
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے جو مختصر، آسان اور جامع ہے: (سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعاليٰ جدك ولا إله غيرك) (سنن أبي داود،الصلاة، حدیث: 776)
سنن بیہقی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ افتتاح کے طور پر مختلف دعاؤں کو جمع بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن سند کے لحاظ سے یہ روایت صحیح نہیں جیسا کہ امام بیہقی نے خود وضاحت کردی ہے۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي، باب من روی الجمع بینھما: 2/35)
(2)
دعائے استفتاح کے بعد چونکہ قراءت شروع کرنی ہے، اس لیے قرآن کریم کے حکم کے پیش نظر تعوذ پڑھنا بھی سنت ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دعائے استفتاح کے بعد مندرجہ ذیل تعوذ پڑھتے: (أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه و نفخه و نفثه) (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 775)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿٩٨﴾ ’’جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
‘‘ (النحل98: 16)
اس آیت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے متقدمین نے ہر رکعت کے شروع میں تعوذ کی مشروعیت کو بیان کیا ہے جبکہ راجح بات یہ ہے کہ تعوذ صرف پہلی رکعت ہی میں پڑھا جائے۔
جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث اس کا واضح ثبوت ہے: رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت کے لیے اٹھتے تھے تو ﴿الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ کے ساتھ قراءت شروع کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، المساجدومواضع الصلاة، حدیث: 1356(599)
لیکن قریباں رابیش بود حیرانی کے فطری اصول کے مطابق، آپﷺ ان لغزشوں اور کوتاہیوں سے سخت لرزاں اور ترساں رہتے تھے جو بشری تقاضوں کے تحت بھول چوک کے سبب آپﷺ سے سرزد ہو سکتی تھیں اور معصیت ونافرمانی نہ ہونے کے باوجود آپﷺ کی بلند و بالا شان اور مقام تقریب کےلحاظ سے قابل گرفت ہو سکتی تھیں۔
مشہور مقولہ ہے۔
(حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئٰاتُ الْمُقَرَّبِيْن)
جن کے رتبے ہیں سواء ان کو سوا مشکل ہے اور آپﷺ کی دعا سے معلوم ہوتا ہے انسان کسی قدر بھی بلند و بالا مقام پر فائز ہو جائے وہ بشریت کے تقاضوں سے نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و راہنمائی کے بغیر خطاؤں اور لغزشوں سے دور نہیں رہ سکتا اور گناہ مادی میل کچیل کی طرح دل اور روح کی میل کچیل ہیں اور اللہ کے غضب کی آگ اور اس کی سوزش وجلن کا سبب ہیں، اس لیے اس حدت وسوزش کو اللہ کی بخشش ورحمت کے پانی، برف اور اولوں سے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان (تھوڑی دیر) خاموش رہتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم أنقني من خطاياى كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد» ”اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 781]
➊ ثنا کی دعاؤں میں سے یہ دعا سب سے صحیح اسانید سے ثابت ہے، الفاظ میں قدرے فرق بھی مروی ہے۔
➋ ثنا کو خاموشی سے پڑھنا مسنون ہے۔
➌ آخری جملہ ”اے اللہ! مجھے برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔“ اس میں برف اور اولوں کا ذکر یا تو تاکید کے لئے ہے یا اس معنی میں ہے کہ یہ پانی زمینی آلودگیوں سے پاک اور صاف ہوتا ہے، تو اس سے صفائی بھی عمدہ ہو گی اور صفائی کے لئے ”برف اور اولوں کے ذکر میں“ حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ الفاظ بطور تفاول ہیں۔ یعنی اے اللہ! گناہوں کے باعث جو آگ کی حرارت کا سزاوار بن رہا ہوں، ان سے محفوظ رکھ اور میری خطاؤں کو ٹھنڈی برف اور اولوں سے دھو اور آگ کی جلن سے بالکل مامون و محفوظ فرما دے۔ «والله اعلم»
➍ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احوال کا تتبع فرمایا کرتے تھے، خواہ وہ ظاہر ہوتے یا مخفی اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے سے دین کو محفوظ کر دیا ہے۔ «رضي الله عنهم وارضاهم»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں کہتا ہوں: «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 896]
➋ پانی، برف اور اولوں سے مراد مختلف قسم کی رحمتیں ہیں۔ باری تعالیٰ کی مختلف صفات ہیں، مثلاً: عفوودرگزر، مغفرت اور رحمت۔ پانی کے ساتھ برف اور اولوں کا ذکر تاکید کے لیے کیا گیا ہے، یعنی اے اللہ! ان گناہوں کی حدت و تمازت کو، جو جہنم کی آگ میں لے جانے کا سبب ہیں، پانی، برف اور اولوں سے ختم کر دے۔
➌ ”میرے اور میری غلطیوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنی دوری ڈال دے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مشرق اور مغرب کا آپس میں ملنا محال ہے، اسی طرح مجھ سے گناہوں کو اور گناہوں کو مجھ سے دور رکھ۔
➍ علامہ کرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ممکن ہے اس دعائے استفتاح میں تین زمانوں کی طرف اشارہ ہو، یعنی میرے اور میری غلطیوں کے درمیان دوری سے مراد مستقبل کے گناہ یوں، تنقیہ (گناہوں کی صفائی) سے مراد زمانۂ حال کی لغزشیں ہوں اور گناہ دھونے سے مراد زمانہ ماضی میں کیے ہوئے گناہ ہوں۔ واللہ أعلم۔ [فتح الباري: 2؍298، تحت حدیث: 744]
➎ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ برف اور اولوں سے طہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔
➏ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و واقعات، آپ کی حرکات و سکنات دریافت کرتے رہتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے سے اپنا مکمل دین محفوظ شکل میں ہم تک پہنچا دیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» ”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 60]
➋ اس دعا میں پانی، برف اور اولوں کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ میرے گناہوں کو ہر ممکن طریقے سے مجھ سے دور فرما دے۔ ان سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مختلف صورتوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» ” اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعہ دھو دے۔“ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 335]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں یہ دعا پڑھتا ہوں: «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 805]
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو علم کا اس قدر شوق تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتے تھے۔
اور یہ انتظا ر نہیں کرتے تھے۔
کہ خود آپﷺ بیان فرمایئں۔
البتہ بعض اوقات اس خیال سے توقف کرتے تھے۔
کہ یہ سوال رسول اللہﷺ کو ناگوار محسوس نہ ہو۔
اور بلا ضرورت سوال کرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔
(2)
گناہوں سے فاصلہ کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور توفیق کے ساتھ گناہوں سے محفوظ رکھے۔
اور ہم گناہوں کا ارتکاب تو درکنار ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔
(3)
گناہوں کو میل کچیل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
اس لئے انتہائی صفائی کو سفید کپڑے کی صفائی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
کیونکہ سفید کپڑے کو زیادہ توجہ اور اہتمام سے صاف کیا جاتا ہے۔
کہ اگر معمولی سا بھی داغ یا دھبہ رہ گیا تو بہت بُرا محسوس ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرما دے۔
(4)
گناہ جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں۔
ان سے روح بے چینی محسوس کرتی ہے۔
جس طرح جسم ظاہری گرمی سے بے چینی محسوس کرتا ہے۔
اس لئے گناہوں سے صفائی کےلئے زیادہ ٹھنڈی اشیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔
کہ دل کو ٹھنڈ اور تسکین حاصل ہوجائے۔
(5)
نبی کریمﷺ معصوم تھے۔
لیکن اظہار عبودیت کےلئے اور امت کو تعلیم دینے کےلئے استغفار فرماتے تھے۔
«. . . رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كبر للصلاة سكت هنيهة قبل ان يقرا فسالته فقال:اقول: اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد .»
”۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تھوڑا سا وقفہ فرماتے پھر قرآت شروع کرتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وقفہ کے دوران آپ کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا! «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے مابین اتنا فاصلہ اور دوری فرما دے کہ جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف فرما دے کہ جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 213]
«هُنَيْهَةَ» ”ہا“ پر ضمہ، ”نون“ پر فتحہ، ”یا“ ساکن اور دوسری ”ہا“ پر فتحہ ہے۔ تھوڑا سا وقفہ۔
«نَقِّنِي» ”نون“ پر فتحہ، ”قاف“ پر تشدید اور کسرہ ہے۔ «تنقية» سے امر کا صیغہ ہے۔ پاک صاف کر دے۔
«يُنَقّٰي» صیغہ مجہول۔
«الدَّنَسِ» ”دال“ اور ”نون“ پر فتحہ ہے، میل کچیل۔
«الثَّلْجِ» ”ثا“ پر فتحہ اور ”لام“ ساکن ہے، وہ بخارات جو فضا میں سردی کے درجہ انجماد تک پہنچنے کی وجہ سے منجمد ہو جاتے ہیں اور دھنی ہوئی کی طرح ہو کر زمین پر گرتے ہیں (جسے برف کہتے ہیں۔)
«وَالْبَرَدِ» ”با“ اور ”را“ دونوں پر فتحہ ہے۔ بادلوں کا پانی جو سرد ہوا میں جم کر اولوں کی صورت میں زمین پر گرتا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد قرأت سے پہلے قدرے وقفہ ہے اور اس میں یہ دعا پڑھنا مسنون ہے۔
➋ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ دعائے افتتاح بلند آواز سے نہیں بلکہ آہستہ پڑھنی چاہئے۔
➌ گناہوں میں سخت تمازت و حرارت ہوتی ہے جسے مومن دنیا ہی میں جبکہ فاسق آخرت میں محسوس کرے گا اور اس کی تمازت و حرارت کو ختم کرنے کے لیے ٹھنڈا پانی اور برف زیادہ کار آمد ہے، اس لیے دعا میں ان چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ «والله أعلم بالصواب»