صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ: {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ} ، {وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} : باب: (سورۃ ہود میں اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“، ”اور وہ عرش عظیم کا رب ہے“۔
حدیث نمبر: 7427
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت کے دن سب لوگ بیہوش کر دئیے جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آ کر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2373 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک یہودی آدمی اور ایک مسلمان آدمی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تو مسلمان نے کہا،اس ذات کی قسم،جس نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کوتمام جہانوں پر فوقیت بخشی،سب سے چن لیا اور یہودی نے کہا،اس ذات کی قسم،جس نے موسیٰ ؑ کو سب جہانوں سے چن لیا،اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور یہودی کے چہرے پر تھپڑ رسید کردیا تو یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور مسلمان کے معاملہ کی خبردی اور رسول اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6153]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ ﴿٦٨﴾ (سورة الزمر: 68)
"اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں، بے ہوش ہو جائیں گے، مگر جن کو اللہ بچانا چاہے گا، پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو فورا اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔
"
"اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں، بے ہوش ہو جائیں گے، مگر جن کو اللہ بچانا چاہے گا، پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو فورا اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔
"
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2373 سے ماخوذ ہے۔