صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا: باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے «اللهم باسمك أحيا وأموت» ” اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا ۔ “ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
نیند موت کی بہن ہے کما ورد۔
شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چالیس دن بعد35ھ میں مدائن میں فوت ہوئے رضي اللہ و أرضاہ آمین۔
کہتے ہیں النوم أخو الموت اور قرآن میں بھی توفی کا لفظ سونے کے لئے آیا ہے فرمایا ﴿وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّىالآیة﴾
اس حدیث میں دائیں ہاتھ یا دائیں رخسار کا ذکر نہیں ہے دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں وضاحت کے ساتھ دائیں ہاتھ اور دائیں رخسار کا ذکر ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے دائیں رخسار کے نیچے دایاں ہاتھ رکھتے تھے۔
(مسند أحمد: 387/5)
اسی طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر سوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور تین بار درج ذیل دعا پڑھتے: (اللهم قني عذابَكَ يومَ تَبعثُ عبادَكَ)
''اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے تو مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
'' (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5045)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث کا بھی حوالہ دیا ہے۔
(فتح الباري: 139/11)
حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا» ۱؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3417]
وضاحت:
1؎:
تیرا ہی نام لے کر مرتا (یعنی سوتا) ہوں اور تیرا ہی نام لے کر جیتا (یعنی سو کر اٹھتا) ہوں۔
2؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری جان (میری ذات) کو زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اسے (عارضی) موت دے دی تھی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، بعض روایات میں اس کے الفاظ یوں بھی آئے ہیں، (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ) معنی ایک ہی ہے)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو (نیند کی صورت میں) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جا نا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3880]
فائدہ: یہی دعا صبح کو جاگنے پر پڑھنی چاہیے۔ (صحیح البخاري، التوحید، باب السوال باسماء اللہ تعالیٰ والا ستعاذۃ بھا، حدیث: 7394)