مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 7376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں زید بن وہب اور ابوظبیان نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو لوگوں پر رحم نہیں کھاتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التوحيد / حدیث: 7376
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6013 | صحيح مسلم: 2319 | سنن ترمذي: 1922 | مسند الحميدي: 821 | مسند الحميدي: 822

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7376. سیدنا جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو دوسرے لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7376]
حدیث حاشیہ: باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ اللہ کی ایک صفت رحم بھی ہے تو رحمان و رحیم ناموں سے بھی اسے پکار سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7376 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6013 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6013. حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6013]
حدیث حاشیہ: اس ہاتھ سے دے اس ہاتھ سے لے یاں سودا نقدا نقدی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6013 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6013 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6013. حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6013]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت وشفقت کا دائرہ اپنے پرائے، چھوٹے بڑے، ماتحت ملازمین اور حیوانات تک کو وسیع ہے۔
صاحب ایمان کو کسی بھی موقع پر کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا ارشاد گرامی ہے: ’’کسی بدبخت ہی سے رحمت چھینی جاتی ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، البروالصلة، حدیث: 1923)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رحم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا۔
تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4941)
کسی نے خوب کہا ہے: رہو مہرباں تم اہل زمیں پر، اللہ مہرباں ہوگا عرش بریں پر۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اہل ایمان کی رحمت وشفقت سے تمام اہل زمین کو فائدہ پہنچنا چاہیے، جس میں مومن، کافر، حیوان اور پرندے وغیرہ سب شامل ہیں، نیز اس رحمت میں کھانا کھلانا، پانی پلانا، دوسرے کا بوجھ اٹھانا اور تعاون میں ہاتھ بڑھانا سب کام شامل ہیں۔
انسان کو چاہیے کہ وہ خود پر غورو فکر کرتا رہے، اگر کسی کمی یا کوتاہی کا شکار ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی تلافی کے لیے دعا کرتا رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اندر رحمت وشفقت کا جزبہ پیدا فرمائے۔
(فتح الباري: 541/10)
آمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6013 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2319 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں فرمائے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6030]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مقصد یہ ہے کہ انسان کے دل میں دوسروں کے لیے ہمدردی، خیرخواہی اور مہربانی کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ مہربانی اور شفقت کا معاملہ کرے جیسا وہ اللہ کی نعمتوں سے رویہ اختیار کرے گا اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ اس سے سلوک کرے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2319 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 821 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
821- سیدنا جریررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:821]
فائدہ:

① اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق بالخصوص انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کو مخلوق پر رحم سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو تم اس کی مخلوق پر رحم کرو۔ یہ بات یقینی ہے کہ ایک انسان جس قدر دوسرے انسان کی رحمت و شفقت کا محتاج ہوتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر وہ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کی رحمت کے بغیر دنیا و آخرت تباہ ہو جاتی ہے۔
② نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر بھی رحمت اور شفقت کرتے تھے۔ اور اپنی امت کو بھی اس کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کومنبر بنانے سے سے روکا ہے کہ انسان کسی جانور پر سوار ہو اور کھڑا کسی کے ساتھ گپ شپ کرتا رہے بلکہ فرمایا کہ نیچے اتر کر گفتگو کی جائے۔
اسی طرح جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے بھی روکا ہے۔ جانوروں پر لعنت کرنے اور ان کے چہرے کو داغنا حرام قرار دیا ہے۔ تیز چھری کے ساتھ جانور ذبح کرنے کا حکم دیا کہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔ اسی طرح جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع کر دیا تاکہ موت سے پہلے یہ اسے نہ مار جائے۔
یہ ساری باتیں رحم پر دلالت کرتی ہیں۔ جو شخص ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
③ ایک فاحشہ عورت نے ایک کتے پر ترس کھاتے ہوئے اسے پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمادیا جبکہ دوسری طرف ایک عورت کو اس بات پر عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھ دیا اور اس پر رحم نہ کیا حتیٰ کہ وہ اسی طرح مرگئی۔
اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر رحم جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ جبکہ ان پر ظلم جنت سے محرومی کا باعث ہے۔
④ جا گیر داروں کے لیے اور ماتحتوں سے ناروا سلوک کرنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق بلکہ اشرف المخلوقات انسانوں کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک انھیں کس تباہی کی طرف لے جائے گا۔ وہ تباہی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی ہے۔
⑤ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجبور اور لاچار شخص سے تعاون کرنا چاہیے اور محتاج کی ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے۔
⑥) اللہ تعالیٰ صفت رحمت سے متصف ہے، اس کی شان کے لائق ہے اس کی رحمت میں وہ بشری علائق نہیں ہیں جو ایک انسان کے اندر ہوتے ہیں کہ وہ بسا اوقات رحمت و شفقت سے مغلوب ہو جا تا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 823 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔