صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”اہل کتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : " كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ ؟ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ ، وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا سورة البقرة آية 79 أَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ ؟ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں ۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے ۔ واللہ ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایسا نہ ہو۔
ضعیف الایمان لوگوں کا اعتقاد بگڑ جائے لیکن جس شخص کو یہ ڈر نہ ہو اور وہ اہل کتاب سے مباحثہ کرنا چاہے اور اسلام پر جو اعتراضات وہ کرتے ہیں ان کا جواب دیتا ہو تو اس کے لیے مکروہ نہیں ہے بلکہ بلکہ اجر ہے۔
إنما الأعمالُ بِالنیاتِ۔
1۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب تو تمھارے دین کے بارے میں تم سے نہیں پوچھتے پھر تمھیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم ان سے پوچھتے پھرتے ہو۔
تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کا سچا کلام قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
پھر اس کی شرح حدیث کی صورت میں تمھارے پاس ہے پھر بڑی شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو۔
2۔
بہت سے علماء نے اس حدیث کے پیش نظر تورات وانجیل اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا مکروہ قرار دیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کمزور ایمان والے لوگوں کا عقیدہ مزید خراب ہو جائے کیونکہ ان میں تحریف اور تبدیلی ہوئی ہے لیکن جس شخص کو یہ خطرہ نہ ہو اور اہل کتاب سے بحث مباحثہ کرنا چاہیے اور اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کا جواب دینا مقصود ہو تو اس کے لیے بائیل کا مطالعہ کرنا مکروہ نہیں بلکہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجرو ثواب ہوگا۔
واللہ أعلم۔
ایک غیرمسلم کا ان کے معیار پر اترنا ناممکن ہے۔
اس لیے علی العموم اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔
حضرت امام بخاری ؒ اسی مسلک کے دلائل بیان فرمارہے ہیں۔
یہ امر دیگر ہے کہ امام وقت حاکم مجاز کسی غیرمسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ بعض دوسرے مستند قرائن سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہو۔
جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو زنا کے جرم میں سنگساری کا حکم دیا تھا۔
بہرحال قاعدہ کلیہ رہی ہے جو حضرت امام نے بیان فرمایا ہے۔
(1)
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں، ایک غیر مسلم کا ان کے معیار کے مطابق ہونا ممکن نہیں، اس لیے کسی کافر و مشرک کی گواہی قبول نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے بڑے ٹھوس دلائل مہیا کیے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کوئی حاکم وقت کسی غیر مسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ دوسرے قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوتی تھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر یہودی مرد عورت کو زنا کے جرم میں رجم کیا تھا، البتہ ضابطہ وہی ہے جو امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے کہ کفار و مشرکین کی گواہی ناقابل قبول ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں اہل کتاب سے سوال کرنے کی ممانعت ہے۔
چونکہ انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو بدلا، اس لیے ان کی خبریں قبول نہیں۔
جس کی خبر قبول نہیں تو اس سے گواہی کیسے لی جا سکتی ہے، اس لیے اہل کتاب کی گواہی غیر مقبول ہے۔
(فتح الباري: 359/5)