صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں۔
حدیث نمبر: 7355
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّائِدِ الدَّجَّالُ ، قُلْتُ : تَحْلِفُ بِاللَّهِ ؟ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .مولانا داود راز
´ہم سے حماد بن حمید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے ، کہا ہم سے ہمارے والد معاذ بن حسان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ابن صیاد کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھاتے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7355
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2929 | سنن ابي داود: 4331
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7355. محمد بن منکدر سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کو دیکھا وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے۔ میں نے ان سے کہا: آپ اس بات پر اللہ کی قسم کیوں اٹھاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر ؓ کو سنا، وہ نبیﷺ کے پاس اس بات پر قسم اٹھاتے تھے لیکن نبی ﷺ نے اس کا انکار نہیں کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7355]
حدیث حاشیہ: اگر ابن صیاد دجال نہ ہوتا تو آپ ضرور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر قسم کھانے سے منع فرماتے۔
یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ اوپر کتاب الجنائز میں گزر چکا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن مارنا چاہی تو آپ نے فرما یا اگر وہ دجال ہے تب تو اس کی گردن نہ مار سکے گا اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مارنا تیرے حق میں بہتر نہ ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے دجال ہونے میں شبہ تھا‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قسم کھانے پر آپ نے انکار کیوں نہیں کیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شاید پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے دجال ہونے میں شبہ ہو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قسم کھائی اس وقت معلوم ہو گیا کہ وہی دجال ہے۔
ابو داؤد نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نکالا وہ قسم کھاتے تھے اور کہتے تھے بیشک ابن صیاد ہی مسیح دجال ہے اور ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اس لیے انکار ہو کہ ابن صیاد بھی ان تیس دجالوں میں کا ایک دجال ہو جس کے نکلنے کا ذکر دوسری حدیث میں ہے اس معنی کو اس کا دجال ہونا یقینی ہوا اور مسلم نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کا قصہ نکالا کہ انہوں نے دجال کو ایک جزیرے میں دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ نقل کے اور مسلم نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نکالا کہ ابن صیاد کا اور میرا مکہ تک ساتھ ہوا‘ وہ کہنے لگا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے مجھ کودجال سمجھتے ہیں۔
کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جائے گا۔
میں نے کہا بے شک سنا ہے۔
کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ اس کی اولاد نہ ہوگی؟ میں نے کہا بیشک سنا ہے۔
ابن صیاد نے کہا میری تو اولاد بھی ہوئی ہے اور میں مدینہ میں پیدا ہوا‘ اب مکہ میں جا رہا ہوں۔
اور ابو داؤد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ابن صیاد واقعہ حرہ میں گم ہو گیا۔
بعضوں نے کہا وہ مدینہ میں مرا اور لوگوں نے اس پر نماز پڑھی۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن صیاد نے کہا البتہ یہ تو ہے کہ میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدا ہونے کی جگہ جانتا ہوں‘ یہ بھی جانتا ہوں اب وہ جہاں ہے۔
یہ سنتے ہی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا‘ ارے کمبخت! تیری تباہی ہو سارے دن یعنی تو نے پھر شبہ ڈال دیا۔
ایک روایت میں عبد الرزاق کے بہ سند صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یوں ہے کہ ابن صیاد کی ایک آنکھ پھول گئی تھی۔
میں نے اس سے پوچھا تیری آنکھ کب سے پھولی؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا۔
میں نے کہا تو جھوٹا ہے آنکھ تیری سر میں ہے اور تو کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔
یہ سن کراس نے کہا اپنی آنکھ پر ہاتھ پھیرا! اور تین بار گدھے کی سی آواز نکالی۔
میں نے اس کا ذکر ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔
انہوں نے کہا تو اس سے بچا رہ کیوں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہتے سنا ہے کہ دجال کو غصہ دلایا جائے گا اس وقت وہ نکل پڑے گا‘ پھر صحابہ کو اس میں شبہ ہی رہا کہ ابن صیاد دجال ہے یا نہیں۔
امام احمد نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نکالا اگر میں دس بار یہ قسم کھاؤں کہ ابن صیاد دجال ہے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک بار یہ قسم کھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے۔
(ابن صیاد بھی ایک قسم کا دجال تھا مگر دجال موعود وہ ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔
)
یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ اوپر کتاب الجنائز میں گزر چکا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن مارنا چاہی تو آپ نے فرما یا اگر وہ دجال ہے تب تو اس کی گردن نہ مار سکے گا اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مارنا تیرے حق میں بہتر نہ ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے دجال ہونے میں شبہ تھا‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قسم کھانے پر آپ نے انکار کیوں نہیں کیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شاید پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے دجال ہونے میں شبہ ہو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قسم کھائی اس وقت معلوم ہو گیا کہ وہی دجال ہے۔
ابو داؤد نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نکالا وہ قسم کھاتے تھے اور کہتے تھے بیشک ابن صیاد ہی مسیح دجال ہے اور ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اس لیے انکار ہو کہ ابن صیاد بھی ان تیس دجالوں میں کا ایک دجال ہو جس کے نکلنے کا ذکر دوسری حدیث میں ہے اس معنی کو اس کا دجال ہونا یقینی ہوا اور مسلم نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کا قصہ نکالا کہ انہوں نے دجال کو ایک جزیرے میں دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ نقل کے اور مسلم نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نکالا کہ ابن صیاد کا اور میرا مکہ تک ساتھ ہوا‘ وہ کہنے لگا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے مجھ کودجال سمجھتے ہیں۔
کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جائے گا۔
میں نے کہا بے شک سنا ہے۔
کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ اس کی اولاد نہ ہوگی؟ میں نے کہا بیشک سنا ہے۔
ابن صیاد نے کہا میری تو اولاد بھی ہوئی ہے اور میں مدینہ میں پیدا ہوا‘ اب مکہ میں جا رہا ہوں۔
اور ابو داؤد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ابن صیاد واقعہ حرہ میں گم ہو گیا۔
بعضوں نے کہا وہ مدینہ میں مرا اور لوگوں نے اس پر نماز پڑھی۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن صیاد نے کہا البتہ یہ تو ہے کہ میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدا ہونے کی جگہ جانتا ہوں‘ یہ بھی جانتا ہوں اب وہ جہاں ہے۔
یہ سنتے ہی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا‘ ارے کمبخت! تیری تباہی ہو سارے دن یعنی تو نے پھر شبہ ڈال دیا۔
ایک روایت میں عبد الرزاق کے بہ سند صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یوں ہے کہ ابن صیاد کی ایک آنکھ پھول گئی تھی۔
میں نے اس سے پوچھا تیری آنکھ کب سے پھولی؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا۔
میں نے کہا تو جھوٹا ہے آنکھ تیری سر میں ہے اور تو کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔
یہ سن کراس نے کہا اپنی آنکھ پر ہاتھ پھیرا! اور تین بار گدھے کی سی آواز نکالی۔
میں نے اس کا ذکر ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔
انہوں نے کہا تو اس سے بچا رہ کیوں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہتے سنا ہے کہ دجال کو غصہ دلایا جائے گا اس وقت وہ نکل پڑے گا‘ پھر صحابہ کو اس میں شبہ ہی رہا کہ ابن صیاد دجال ہے یا نہیں۔
امام احمد نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نکالا اگر میں دس بار یہ قسم کھاؤں کہ ابن صیاد دجال ہے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک بار یہ قسم کھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے۔
(ابن صیاد بھی ایک قسم کا دجال تھا مگر دجال موعود وہ ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔
)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7355 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7355. محمد بن منکدر سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کو دیکھا وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے۔ میں نے ان سے کہا: آپ اس بات پر اللہ کی قسم کیوں اٹھاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر ؓ کو سنا، وہ نبیﷺ کے پاس اس بات پر قسم اٹھاتے تھے لیکن نبی ﷺ نے اس کا انکار نہیں کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7355]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور خطا سے محفوظ تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے۔
اگر ابن صیاد دجال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس پر قسم اٹھائے سے منع کرتے۔
حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد وہ دجال نہیں جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قسم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش رہنا اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ ابن صیاد بھی ان دجالوں میں سے ایک دجال ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے لیکن دجال اکبر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ وہ علامات قیامت میں سے ہے اور قیامت کےقریب ہی ظاہر ہوگا۔
واللہ أعلم۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن اڑانا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ وہی دجال ہے تو اس پر تم مسلط نہیں ہوسکتے اور اگر یہ وہ دجال نہیں تو اس کے قتل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1354)
2۔
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن صیاد کے متعلق شک تھا کہ وہ دجال ہے یا نہیں۔
ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہولیکن آثار وقرائن سے بعد میں اس کے متعلق شک پڑ گیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحقیق کرنا ضروری خیال کیا۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ دجال اکبر نہیں اور اس بات کا بھی یقین تھا کہ وہ قیامت سے پہلے آنے والے تیس دجالوں میں سے ایک ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور خطا سے محفوظ تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے۔
اگر ابن صیاد دجال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس پر قسم اٹھائے سے منع کرتے۔
حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد وہ دجال نہیں جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قسم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش رہنا اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ ابن صیاد بھی ان دجالوں میں سے ایک دجال ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے لیکن دجال اکبر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ وہ علامات قیامت میں سے ہے اور قیامت کےقریب ہی ظاہر ہوگا۔
واللہ أعلم۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن اڑانا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ وہی دجال ہے تو اس پر تم مسلط نہیں ہوسکتے اور اگر یہ وہ دجال نہیں تو اس کے قتل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1354)
2۔
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن صیاد کے متعلق شک تھا کہ وہ دجال ہے یا نہیں۔
ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہولیکن آثار وقرائن سے بعد میں اس کے متعلق شک پڑ گیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحقیق کرنا ضروری خیال کیا۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ دجال اکبر نہیں اور اس بات کا بھی یقین تھا کہ وہ قیامت سے پہلے آنے والے تیس دجالوں میں سے ایک ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7355 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2929 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا وہ اللہ کی قسم اٹھا رہے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے تو میں نے کہا، کیا آپ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا، میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس پر قسم اٹھاتے نہیں سنا،لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اعتراض نہیں کیا، یا آپ نے اس کا انکار نہ کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7353]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ابن صیاد کے دجال ہونے میں تو کوئی شک شبہ نہیں ہے، اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ وہی دجال اکبر یعنی مسیح دجال ہے، یا دجال اصغر ہے، دجال اکبر، آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا، بعض کا خیال ہے، یہی دجال اکبر کی صورت میں ظاہر ہوگا اور بعض کا خیال ہے، آکری دجال اور ہے، جیسا کہ حضرت تمیم داری کی حدیث میں ہے، لیکن اس کی حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دجال اکبر پیدا ہوچکا ہے، موجود ہے، لیکن اس کا ظہور آخری زمانہ میں ہوگا، اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو قتل کریں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2929 سے ماخوذ ہے۔