صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَهُ ، قَال : حَدَّثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ " ، وَقَالَ هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ .´ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن کثیر نے ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس رات ایک میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں تھے اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئیے اور کہئیے کہ عمرہ اور حج ( کی نیت کرتا ہوں ) اور ہارون بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے علی نے بیان کیا ( ان الفاظ کے ساتھ ) «عمرة في حجة.» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حدیث مبارک وادی کا ذکر ہے۔
یہی باب سے مطابقت ہے۔
1۔
وادی عقیق مدینے کے عین مغرب سے گزرتی ہے۔
یہ وادی مدینے سے تقریباً 140 کلو میٹر جنوب میں جبال قدس اور حرۃ المجاز سے پانی لیتی ہے۔
ذوالحلیفہ سے آگے یہ وادی عقیق کہلاتی ہے۔
اس وادی اور مدینے کے درمیان حرۃ ابوبرہ حال ہے۔
یہ شمال کی طرف وادی المحض (اضم)
سے جا ملتی ہے۔
مدینے کے جنوب میں کوہ عیر وادی عقیق کے دائیں کنارے پر واقع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے نویں سال حج کے لیے تشریف لے گئے تو اس میدان میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی۔
اس حدیث میں وادی عقیق کے مبارک ہونے کا ذکر ہے۔
اس لیے یہ وادی رسول کریم ﷺ کے قیام کرنے کی جگہ بن گئی، بالکل اسی طرح غیر آباد اور ناملکیت زمین کا آباد کرنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے۔
آج کل چونکہ زمین کا چپہ چپہ ہر ملک کی حکومت کی ملکیت مانا گیا ہے اس لیے ایسی زمینات کے لیے حکومت کی اجازت ضروری ہے۔
(1)
اس باب کا کوئی عنوان نہیں ہے گویا یہ پہلے باب کا تکملہ ہے۔
پہلے باب سے اس کی مناسبت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ کی زمین کے متعلق حکم نہیں دیا کہ جو کوئی اسے آباد کرے گا تو وہ اس کی ملک ہو گی کیونکہ ذوالحلیفہ لوگوں کے پڑاؤ کی جگہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو غیر آباد جگہ کسی اجتماعی مفاد کے لیے ہو وہ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی وہاں ہر شخص پڑاؤ کر سکتا ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے وادئ عقیق میں قیام فرمایا جو کسی کی ملکیت نہیں تھی، آپ کے قیام کرنے سے وہ عام لوگوں کے لیے پڑاؤ کا مقام بن گئی۔
اسلام نے اس غلط خیال کی بھی اصلاح کی اور اعلان کرایا کہ اب ایام حج میں عمرہ داخل ہوگیا۔
یعنی جاہلیت کا خیال باطل ہوا۔
ایام حج میں عمرہ کیاجاسکتاہے۔
اسی ليے تمتع کو افضل قرادیا گیا کہ اس میں حاجی پہلے عمرہ کر کے جاہلیت کی رسم کی بیج کنی کرتا ہے۔
پھر اس میں جو آسانیاں ہیں کہ یوم ترویہ تک احرام کھول کر آزادی مل جاتی ہے۔
یہ آسانی بھی اسلام کو مطلوب ہے۔
اسی ليے تمتع حج کی بہترین صورت ہے۔
(1)
وادی عقیق مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر بقیع کے قریب ہے۔
کہتے ہیں کہ یمن کا بادشاہ تُبع جب مدینہ منورہ سے واپس ہوا تو اس وادی میں پڑاؤ کیا۔
اس کی زرخیزی، شادابی اور محل وقوع کو دیکھ کر کہنے لگا: یہ تو کرہ ارض کا عقیق معلوم ہوتا ہے۔
اس وقت سے اس کا نام وادی عقیق ہے۔
(2)
واضح رہے کہ عقیق نامی ایک وادی مکہ مکرمہ میں بھی ہے لیکن اس سے مراد وہ وادی ہے جو مدینہ منورہ میں ذوالحلیفہ کے پاس ہے۔
(3)
ایام حج میں عمرہ کرنا قبل از اسلام سخت معیوب خیال کیا جاتا تھا۔
اسلام نے اس غلط خیال کی اصلاح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایام حج میں عمرہ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ افضل ہے جیسا کہ حج تمتع اور حج قران میں کیا جاتا ہے۔
واللہ أعلم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا (جبرائیل) آیا (آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے۔" ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» (کہو! عمرہ حج میں ہے) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1800]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق ۱؎ میں فرماتے سنا: " میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں " (یہ الفاظ دحیم کے ہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2976]
فوائد و مسائل:
(1)
آنے والے سے مراد فرشتہ ہے جس نے آ کر بتایا کہ حج کے ساتھ عمرے کی نیت بھی کر لیجیے۔
(2)
حج میں عمرہ داخل ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنا جائز ہے۔
جب کہ اہل عرب اس کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ حج قران میں حج اور عمرے کے لیے ایک ہی احرام ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔
یعنی حج کے اعمال ادا کرنے سے عمرے کے اعمال خود بخود ادا شدہ سمجھے جائیں گے۔
واللہ اعلم۔
(3)
وادی عتیق مدینہ کے قریب چار میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
"وادی عقیق" کو مبارک کہا گیا ہے۔
یہ وادی مدینہ منورہ کے قریب چھ میل کے فاصلے پر بقیع کے قریب واقع ہے اور ذوالحلیفہ کے پاس ہے۔ اس حدیث میں یہ بھی واضح بیان ہے کہ قرآن کریم کی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی الہی ہے۔ «عمرة فى حجة» کے دو مفہوم ہیں۔
➊ حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کر لیں، یعنی حج قران کر لیں، حج قران میں حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی احرام، ایک ہی طواف اور ایک ہی رمی کافی ہے، یعنی حج کے ارکان ادا کرنے سے عمرے کے تمام ارکان خود بخود ادا شدہ سمجھے جائیں گے، واللہ اعلم۔
➋ حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنا جائز ہے، جبکہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل بات کی تردید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے فرمائی۔