صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان۔
حدیث نمبر: 7338
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، " خَطَبَنَا عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سائب بن یزید نے خبر دی ، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا` جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے ہمیں خطاب کر رہے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7338. سیدنا سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے منبر شریف پر سیدنا عثمان ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7338]
حدیث حاشیہ: منبر نبوی کی عظمت کا کیا کہنا مگر صد افسوس کہ دشمنوں نے اس ممبر کی عظمت کو بھی بھلا دیا اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اسی ممبر پر بھی توہین کی۔
قد خابو او خسروا في الدنیا والآخرة۔
قد خابو او خسروا في الدنیا والآخرة۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7338 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7338. سیدنا سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے منبر شریف پر سیدنا عثمان ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7338]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں بھی منبر نبوی کی عظمت کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین اہم کاموں کے لیے منبر استعمال کرتے اور اس پر کھڑے ہو کرخطبہ دیتے تاکہ تمام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ منبر نبوی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور تک بلاکم وکاست باقی رہا اور اس میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تھی۔
بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ منبر نبوی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد بھی دیر تک اپنی اصلی حالت پر قائم ودائم رہا۔
(فتح الباري: 380/13)
2۔
منبر نبوی کی عظمت کا کیا کہنا!مگرصد افسوس کہ دشمنانِ اسلام نے اس منبر کی عظمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین بھی اس منبر پر کی تھی۔
العیاذ باللہ۔
1۔
اس حدیث میں بھی منبر نبوی کی عظمت کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین اہم کاموں کے لیے منبر استعمال کرتے اور اس پر کھڑے ہو کرخطبہ دیتے تاکہ تمام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ منبر نبوی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور تک بلاکم وکاست باقی رہا اور اس میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تھی۔
بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ منبر نبوی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد بھی دیر تک اپنی اصلی حالت پر قائم ودائم رہا۔
(فتح الباري: 380/13)
2۔
منبر نبوی کی عظمت کا کیا کہنا!مگرصد افسوس کہ دشمنانِ اسلام نے اس منبر کی عظمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین بھی اس منبر پر کی تھی۔
العیاذ باللہ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7338 سے ماخوذ ہے۔