صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، لَيْسَ بِرَأْيٍ وَلاَ تَمْثِيلٍ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں و عورتوں کو وہی باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : اجْتَمِعْنَ ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَاجْتَمَعْنَ ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوِ اثْنَيْنِ ، قَالَ : فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ " .´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے ، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : یا رسول اللہ ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے ، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی ۔ ( یعنی ان کی وفات ہو جائے گی ) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے ۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا : یا رسول اللہ ! دو ؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں دو ، دو ، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
کرمانی نے کہا اس قول سے کہ وہ اس کے لیے دوزخ سے آڑ ہوں گے کیونکہ یہ امر بغیر خدا کے بتلائے قیاس اور رائے سے معلوم نہیں ہو سکتا۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وحی الٰہی پر مبنی ہوتی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رائے یا قیاس سے جواب نہیں دیا،چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ تین بچے قیامت کے دن اپنی ماں کے لیے دوزخ سے آڑ ہوں گے۔
یہی ایسی بات ہے جس میں عقل یا قیاس نہیں چل سکتا۔
اس قسم کی بات وحی الٰہی کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی۔
اس حدیث میں سوال کرنے والی خاتون مبہم ہے۔
شاید وہ اسماء بنت یزید بن سکن ہوں۔
(فتح الباری 13/358)
2۔
ہمیں چاہیے کہ دینی مسائل میں شری نصوص کا اتباع کریں،قیاس اور رائے کو بے دریغ استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔
قیاس اور رائے کے استعمال سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کوسوں دور بھاگتے تھے۔
واللہ اعلم۔w