حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا ، مقبری کے واسطہ سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی ۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے تھے ۔ پھر چند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 942

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 942 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 942]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس سے گھر میں سترے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 942 سے ماخوذ ہے۔