صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ: باب: بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 7293
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ " .مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا , کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا , ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا کہ ہمیں تکلف اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7293
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7293. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ہمیں تکلیف اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7293]
حدیث حاشیہ: ابو نعیم نے مستخرج میں نکالا انس رضی اللہ عنہ سے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے وہ چار پیوند لگے ہوئے ایک کرتہ پہنے تھے۔
اتنے میں انہوں نے یہ آیت پڑھی (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)
تو کہنے لگے فاکھة تو ہم کو معلوم ہے لیکن أباً کیا چیز ہے۔
پھر کہنے لگے بآایں ہم کو تکلیف سے منع کیا گیا اور اپنے تئیں آپ پکارنے لگے اور کہنے لگے اے عمر کی ماں کے بیٹے! یہی تو تکلف ہے اگر تجھ کو یہ معلوم نہ ہوا کہ أباً کیا چیز ہے تو کیا نقصان ہے۔
؟
اتنے میں انہوں نے یہ آیت پڑھی (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)
تو کہنے لگے فاکھة تو ہم کو معلوم ہے لیکن أباً کیا چیز ہے۔
پھر کہنے لگے بآایں ہم کو تکلیف سے منع کیا گیا اور اپنے تئیں آپ پکارنے لگے اور کہنے لگے اے عمر کی ماں کے بیٹے! یہی تو تکلف ہے اگر تجھ کو یہ معلوم نہ ہوا کہ أباً کیا چیز ہے تو کیا نقصان ہے۔
؟
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7293 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7293. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ہمیں تکلیف اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7293]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے،انھوں نے جوقمیص پہن رکھی تھی اس کی پشت پر چار پیوند لگے ہوئے تھے،اس دوران میں انھوں نے یہ آیت پڑھی: (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)
پھر فرمایا: (فَاكِهَةً)
تو ہم جانتے ہیں لیکن (أَبًّا)
کیا چیز ہے؟ پھرفرمایا: ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا: ’’عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! یہی توتکلف ہے، اگرتجھے معلوم نہ ہو کہ (أَبًّا)
کیا چیز ہے؟ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ (فتح الباري: 332/13)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اس لفظ کی تفسیر کی کہ اس کے معنی حیوانات کاچارا ہے۔
ان تفسیری نکات کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں اپنے قریب جگہ دیتے تھے۔
(فتح الباري: 333/13)
نوٹ:۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس سے مقصد یہ ہے کہ صحابی کا قول (أَمْرِنَا)
اور(نُهِيْنَا)
مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اگرچہ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہو، اس لیے انھوں نے اس حدیث میں (نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ)
پر اکتفا کیا اور باقی واقعہ حذف کر دیا۔
(فتح الباري: 333/13)
مقصد یہ ہے کہ بے فائدہ تکلفات کی شرعاً اجازت نہیں جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق عنوان قائم کیا ہے۔
1۔
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے،انھوں نے جوقمیص پہن رکھی تھی اس کی پشت پر چار پیوند لگے ہوئے تھے،اس دوران میں انھوں نے یہ آیت پڑھی: (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)
پھر فرمایا: (فَاكِهَةً)
تو ہم جانتے ہیں لیکن (أَبًّا)
کیا چیز ہے؟ پھرفرمایا: ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا: ’’عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! یہی توتکلف ہے، اگرتجھے معلوم نہ ہو کہ (أَبًّا)
کیا چیز ہے؟ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ (فتح الباري: 332/13)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اس لفظ کی تفسیر کی کہ اس کے معنی حیوانات کاچارا ہے۔
ان تفسیری نکات کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں اپنے قریب جگہ دیتے تھے۔
(فتح الباري: 333/13)
نوٹ:۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس سے مقصد یہ ہے کہ صحابی کا قول (أَمْرِنَا)
اور(نُهِيْنَا)
مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اگرچہ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہو، اس لیے انھوں نے اس حدیث میں (نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ)
پر اکتفا کیا اور باقی واقعہ حذف کر دیا۔
(فتح الباري: 333/13)
مقصد یہ ہے کہ بے فائدہ تکلفات کی شرعاً اجازت نہیں جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق عنوان قائم کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7293 سے ماخوذ ہے۔